محراب پور: تحریک تحفظ آئین کی اپیل پر مختلف شہروں میں ہڑتال رہی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
محراب پور(جسارت نیوز)تحریک تحفظ آئین، پی ٹی آئی، جی ڈی اے اور قوم پرست جماعتوں کی اپیل پر نوشہرو فیروز، محراب پور، مورو، کنڈیارو، بھریا سٹی،بھریا روڈ،ٹھارو شاہ، پڈعیدن ، دریا خان مری،پھل، خان واہن شہر میں مکمل شٹربند ہڑتال ہوئی،شاہی بازار، کپڑا مارکیٹ، فرنیچر مارکیٹ،موبائل مارکیٹ، سبزی منڈی، گڑ منڈی سمیت اکثرکاروباری مراکز بند رہے قومی شاہراہ اور رابطہ سڑکوں (لنک روڈ) پر ٹریفک معمول سے کم رہی، سیاسی، قوم پرست رہنماؤں کی اپیل پر تاجر برادری نے ہڑتال کی، دربیلو سمیت کئی شہروں میں کارکنوں نے ریلیاں نکالیں ، پولیس نے کئی جگہوں پر زبردستی دکانیں کھلوائی، پولیس دن بھر سڑکوں میں گشت کرتے رہی، دوسری طرف بھریا سٹی، ٹھارو شاہ پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سابق ڈپٹی اسیپکر سید ظفر شاہ سے کی گرفتاری کے لئے دربیلو میں انکے بنگلے کا محاصرہ کیا، سید ظفر علی کی عدم موجودگی میں انکے ملازمین کو پولیس گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئی،پولیس نے ضلع بھر میں مختلف شہروں میں کریک ڈاؤن کرتے ہوئے سو زائد سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔