Jasarat News:
2026-06-02@21:49:06 GMT

NLFقائدین کا بلوچستان و کراچی کے ساحلی علاقوں کا دورہ

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نیشنل لیبر فیڈریشن (NLF) پاکستان کے مرکزی صدر شمس الرحمن سواتی کی قیادت میں بلوچستان کے ساحلی علاقوں گوادر، پسنی، اورماڑہ، حب چوکی اور کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری کا تفصیلی دورہ کیا گیا۔ دورے کا مقصد ماہی گیروں، بوٹ میکنگ انڈسٹری اور صنعتی مزدوروں کو درپیش مسائل کا براہِ راست جائزہ لینا تھا۔
دورے کے پہلے روز گوادر میں بوٹ میکر ایسوسی ایشن کے صدر حاجی فیض محمد سے ملاقات کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک لانچ (کشتی) کی تیاری میں تقریباً چھ ماہ لگتے ہیں اور اس میں 6 سے 10 مزدور کام کرتے ہیں۔ مقامی سطح پر کام نہ ملنے کی صورت میں مزدور ایران کا رخ کرتے ہیں، جہاں حکومتی سہولیات دستیاب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یونیسف کے تعاون سے بوٹ میکنگ کے فروغ کے لیے ایک تربیتی اسکول بھی قائم ہے، جہاں اس وقت ساتویں تا نویں جماعت کے 120 طلبہ زیرِ تربیت ہیں۔
وفد نے بعد ازاں گوادر ہاربر کا دورہ کیا جہاں سینئر ماہی گیروں اور مال ہولڈرز سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں میں حق دو تحریک گوادر کے رہنما ساجد ہومیتان، کیپٹن
غلام شاہ، صلاح الدین، محمد امین، اقبال ہوت، دل مراد، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ شاہنواز شاہ، مختار احمد، حاجی مراد، سعید عطااللہ اور کیپٹن الٰہی بخش سمیت دیگر نمائندے شریک تھے۔ ماہی گیروں نے اپنے دیرینہ مسائل سے وفد کو آگاہ کیا۔

اسی روز مولانا ہدایت الرحمن کے ہمراہ گوادر پورٹ کا دورہ کیا گیا۔ بعد ازاں سندھ بلوچستان فٹبال ٹورنامنٹ میں نیشنل لیبر فیڈریشن کے مرکزی صدر نے بطور چیف گیسٹ شرکت کی۔ شام کو گوادر بلدیہ کے دفتر میں ماہی گیروں کی ایک بڑی کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت مولانا ہدایت الرحمن (رکن بلوچستان اسمبلی و امیر جماعت اسلامی بلوچستان) اور شمس الرحمن سواتی نے کی۔
کانفرنس میں ماہی گیروں نے شکایت کی کہ کمیشن ایجنٹس من مانی قیمتیں مقرر کرتے ہیں، جس کے باعث ماہی گیروں کو ان کی محنت کا پورا معاوضہ نہیں ملتا۔ ماہی گیروں کے لیے نہ صحت و سلامتی کی سہولیات موجود ہیں اور نہ ہی سمندر میں حادثات کی صورت میں کوئی مؤثر ریسکیو نظام۔ 2010 سے جاری جدوجہد کے نتیجے میں 2022 میں بلوچستان اسمبلی سے بل منظور ہوا، مگر تاحال اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ گوادر پورٹ میں ماہی گیروں کے لیے کوٹہ مقرر نہ ہونا بھی ایک سنگین مسئلہ قرار دیا گیا۔
ماہی گیروں نے ٹرالر مافیا کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جو سمندری ماحول اور مچھلیوں کی افزائشِ نسل کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کی خاموشی کو مجرمانہ غفلت قرار دیا گیا۔ مطالبہ کیا گیا کہ فشریز اور لیبر ڈیپارٹمنٹ مشترکہ طور پر مؤثر قانون سازی کریں، ٹیکنیکل کورسز متعارف کرائیں اور ماہی گیر کارڈ جاری کیا جائے، جیسا کہ کسان اور صحت کارڈ۔
اگلے روز وفد نے پسنی کا دورہ کیا، جہاں فش ہاربر سوسائٹی کے جنرل سیکریٹری عنایت اللہ اور دیگر نمائندوں کے ہمراہ ماہی گیروں کے بڑے اجتماع سے خطاب کیا گیا۔ اجتماع میں پسنی میں میرین یونیورسٹی کے قیام، ماہی گیروں کے بچوں کے لیے اسکالرشپس اور غیر قانونی شکار میں ملوث بیرونی کمپنیوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ ان کمپنیوں کے خلاف 25 سے 30 ہزار ماہی گیر 12 دسمبر سے ہڑتال پر ہیں۔

اورماڑہ میں ماہی گیروں نے بتایا کہ سمندری طوفانوں کے باعث کشتیاں تباہ ہو جاتی ہیں مگر حکومتی امداد دستیاب نہیں۔ ٹرالر مافیا ساحل کے قریب غیر قانونی شکار کر رہی ہے اور کوئی ریسکیو یا ہیلتھ اینڈ سیفٹی نظام موجود نہیں۔دورے کے دوران حب میں صنعتی مزدوروں کے مسائل جبکہ کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں ماہی گیروں نے بھتہ خوری، اسلحہ بردار گروہوں اور غیر قانونی وصولیوں کی شکایات پیش کیں۔
اس موقع پر شمس الرحمن سواتی نے کہا کہ ماہی گیر ملک کے سب سے زیادہ نظر انداز کیے گئے مزدور طبقے ہیں۔ ٹرالر مافیا سمندری حیات تباہ کر رہی ہے اور ریاستی ادارے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کھلے سمندر میں ماہی گیروں کو اسلحے کے زور پر لوٹا جاتا ہے اور ان کی محنت کی کمائی سرمایہ داروں کی نذر ہو جاتی
ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ماہی گیر اپنی جان خطرے میں ڈال کر بھی اپنی مچھلی کی قیمت مقرر کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ماہی گیروں کی فوری رجسٹریشن کی جائے، انہیں تمام لیبر قوانین اور سماجی تحفظ کے حقوق دیے جائیں اور نیشنل لیبر فیڈریشن ان کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔
دورے میں نیشنل لیبر فیڈریشن بلوچستان کے جنرل سیکرٹری عمر حیات، کوئٹہ ڈویژن کے صدر خدائیداد خان، مولانا ہدایت الرحمن کے کوآرڈینیٹر محمد شریف، سابق ضلع چیئرمین گوادر اکرم فدا اور نوید محمد بھی مرکزی صدر کے ہمراہ تھے۔وفد نے تمام مسائل کو متعلقہ فورمز پر اجاگر کرنے اور ماہی گیروں و مزدوروں کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

عمر حیات گلزار

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نیشنل لیبر فیڈریشن میں ماہی گیروں ماہی گیروں نے ماہی گیروں کے دورہ کیا کا دورہ کیا گیا کے لیے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی