NLFقائدین کا بلوچستان و کراچی کے ساحلی علاقوں کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیشنل لیبر فیڈریشن (NLF) پاکستان کے مرکزی صدر شمس الرحمن سواتی کی قیادت میں بلوچستان کے ساحلی علاقوں گوادر، پسنی، اورماڑہ، حب چوکی اور کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری کا تفصیلی دورہ کیا گیا۔ دورے کا مقصد ماہی گیروں، بوٹ میکنگ انڈسٹری اور صنعتی مزدوروں کو درپیش مسائل کا براہِ راست جائزہ لینا تھا۔
دورے کے پہلے روز گوادر میں بوٹ میکر ایسوسی ایشن کے صدر حاجی فیض محمد سے ملاقات کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک لانچ (کشتی) کی تیاری میں تقریباً چھ ماہ لگتے ہیں اور اس میں 6 سے 10 مزدور کام کرتے ہیں۔ مقامی سطح پر کام نہ ملنے کی صورت میں مزدور ایران کا رخ کرتے ہیں، جہاں حکومتی سہولیات دستیاب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یونیسف کے تعاون سے بوٹ میکنگ کے فروغ کے لیے ایک تربیتی اسکول بھی قائم ہے، جہاں اس وقت ساتویں تا نویں جماعت کے 120 طلبہ زیرِ تربیت ہیں۔
وفد نے بعد ازاں گوادر ہاربر کا دورہ کیا جہاں سینئر ماہی گیروں اور مال ہولڈرز سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں میں حق دو تحریک گوادر کے رہنما ساجد ہومیتان، کیپٹن
غلام شاہ، صلاح الدین، محمد امین، اقبال ہوت، دل مراد، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ شاہنواز شاہ، مختار احمد، حاجی مراد، سعید عطااللہ اور کیپٹن الٰہی بخش سمیت دیگر نمائندے شریک تھے۔ ماہی گیروں نے اپنے دیرینہ مسائل سے وفد کو آگاہ کیا۔
اسی روز مولانا ہدایت الرحمن کے ہمراہ گوادر پورٹ کا دورہ کیا گیا۔ بعد ازاں سندھ بلوچستان فٹبال ٹورنامنٹ میں نیشنل لیبر فیڈریشن کے مرکزی صدر نے بطور چیف گیسٹ شرکت کی۔ شام کو گوادر بلدیہ کے دفتر میں ماہی گیروں کی ایک بڑی کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت مولانا ہدایت الرحمن (رکن بلوچستان اسمبلی و امیر جماعت اسلامی بلوچستان) اور شمس الرحمن سواتی نے کی۔
کانفرنس میں ماہی گیروں نے شکایت کی کہ کمیشن ایجنٹس من مانی قیمتیں مقرر کرتے ہیں، جس کے باعث ماہی گیروں کو ان کی محنت کا پورا معاوضہ نہیں ملتا۔ ماہی گیروں کے لیے نہ صحت و سلامتی کی سہولیات موجود ہیں اور نہ ہی سمندر میں حادثات کی صورت میں کوئی مؤثر ریسکیو نظام۔ 2010 سے جاری جدوجہد کے نتیجے میں 2022 میں بلوچستان اسمبلی سے بل منظور ہوا، مگر تاحال اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ گوادر پورٹ میں ماہی گیروں کے لیے کوٹہ مقرر نہ ہونا بھی ایک سنگین مسئلہ قرار دیا گیا۔
ماہی گیروں نے ٹرالر مافیا کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جو سمندری ماحول اور مچھلیوں کی افزائشِ نسل کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کی خاموشی کو مجرمانہ غفلت قرار دیا گیا۔ مطالبہ کیا گیا کہ فشریز اور لیبر ڈیپارٹمنٹ مشترکہ طور پر مؤثر قانون سازی کریں، ٹیکنیکل کورسز متعارف کرائیں اور ماہی گیر کارڈ جاری کیا جائے، جیسا کہ کسان اور صحت کارڈ۔
اگلے روز وفد نے پسنی کا دورہ کیا، جہاں فش ہاربر سوسائٹی کے جنرل سیکریٹری عنایت اللہ اور دیگر نمائندوں کے ہمراہ ماہی گیروں کے بڑے اجتماع سے خطاب کیا گیا۔ اجتماع میں پسنی میں میرین یونیورسٹی کے قیام، ماہی گیروں کے بچوں کے لیے اسکالرشپس اور غیر قانونی شکار میں ملوث بیرونی کمپنیوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ ان کمپنیوں کے خلاف 25 سے 30 ہزار ماہی گیر 12 دسمبر سے ہڑتال پر ہیں۔
اورماڑہ میں ماہی گیروں نے بتایا کہ سمندری طوفانوں کے باعث کشتیاں تباہ ہو جاتی ہیں مگر حکومتی امداد دستیاب نہیں۔ ٹرالر مافیا ساحل کے قریب غیر قانونی شکار کر رہی ہے اور کوئی ریسکیو یا ہیلتھ اینڈ سیفٹی نظام موجود نہیں۔دورے کے دوران حب میں صنعتی مزدوروں کے مسائل جبکہ کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں ماہی گیروں نے بھتہ خوری، اسلحہ بردار گروہوں اور غیر قانونی وصولیوں کی شکایات پیش کیں۔
اس موقع پر شمس الرحمن سواتی نے کہا کہ ماہی گیر ملک کے سب سے زیادہ نظر انداز کیے گئے مزدور طبقے ہیں۔ ٹرالر مافیا سمندری حیات تباہ کر رہی ہے اور ریاستی ادارے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کھلے سمندر میں ماہی گیروں کو اسلحے کے زور پر لوٹا جاتا ہے اور ان کی محنت کی کمائی سرمایہ داروں کی نذر ہو جاتی
ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ماہی گیر اپنی جان خطرے میں ڈال کر بھی اپنی مچھلی کی قیمت مقرر کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ماہی گیروں کی فوری رجسٹریشن کی جائے، انہیں تمام لیبر قوانین اور سماجی تحفظ کے حقوق دیے جائیں اور نیشنل لیبر فیڈریشن ان کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔
دورے میں نیشنل لیبر فیڈریشن بلوچستان کے جنرل سیکرٹری عمر حیات، کوئٹہ ڈویژن کے صدر خدائیداد خان، مولانا ہدایت الرحمن کے کوآرڈینیٹر محمد شریف، سابق ضلع چیئرمین گوادر اکرم فدا اور نوید محمد بھی مرکزی صدر کے ہمراہ تھے۔وفد نے تمام مسائل کو متعلقہ فورمز پر اجاگر کرنے اور ماہی گیروں و مزدوروں کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
عمر حیات
گلزار
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیشنل لیبر فیڈریشن میں ماہی گیروں ماہی گیروں نے ماہی گیروں کے دورہ کیا کا دورہ کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ