طلاق کی افواہوں کی خبروں کے درمیان بالی ووڈ کے مشہور اداکار گووندا کی اہلیہ سنیتا آہوجا نے اپنی پہلی بالی ووڈ فلم سائن کرلی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اداکار گووندا کی اہلیہ سنیتا آہوجا اب بالی ووڈ میں اداکارہ کے طور پر ڈیبیو کرنے والی ہیں۔

ذرائع کے مطابق سنیتا آہوجا نے ایکتا کپور کے بالاجی موشن پکچرز کے بینر تلے بننے والی فلم میں مرکزی کردار کے لیے معاہدہ کر لیا۔

یہ فلم ابھی تک نامزد نہیں کی گئی ہے مگر رپورٹس کے مطابق سنیتا آہوجا تقریباً 20 دن تک شوٹنگ کریں گی اور ان کا کردار فلم میں اہمیت رکھتا ہے۔

اس کے باوجود کہ ان کے شوہر گووندا 90 کی دہائی میں فلمی دنیا کے مقبول ہیرو تھے لیکن سنیتا آہوجا نے کبھی شوبز میں کسی بھی سطح پر شمولیت اختیار نہیں کی۔

تاہم اب ان کا بالی ووڈ میں ڈیبیو کرنا دیر آید درست آید کے مصداق ایک اہم انٹری سمجھی جا رہی ہے۔ اب دیکھنا ہے یہ کتنی کامیاب اور دیرپا ثابت ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل گووندا اور سنیتا کی بیٹی ٹینا آہوجا بھی فلمی دنیا میں ڈیبیو کرچکی ہے جبکہ جوڑے کے بیٹے یش وردھن آہوجا کو بھی جلد فلم میں نظر آئیں گے۔

 

 

 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل بالی ووڈ

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین