Jasarat News:
2026-07-24@03:34:22 GMT

اسکول آف سکارلرز

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

اسکول آف سکارلرز

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والی ایک ماں اور بیٹی نے مل کر ایک ایسا سکول قائم کیا ہے جہاں کتاب کے بجائے بیرونی ممالک کی طرز پر عملی طور پر درس و تدریس سلسلہ جاری ہے۔ ’سکول آف سکارلرز‘ نامی اس نجی تعلیمی ادارے میں صرف لڑکیاں پڑھتی ہیں۔ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ اور میتھ (STEM) بلوچستان کی لڑکیاں اس سکول میں انتہائی مختصر فیس یا مفت میں حاصل کر رہی ہیں۔سائنس، ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ اور میتھ (STEM) پر مشتمل تعلیم بلوچستان کی لڑکیاں اس سکول میں انتہائی مختصر فیس یا مفت میں حاصل کر رہی ہیں۔اس سکول میں تین سوکے قریب بچیاں زیر تعلیم ہیں۔ ہر بچی ذہن سازی اور ٹریننگز کے مختلف مراحل سے گزرتی ہے جس کے بعد وہ اپنے لیے ایک پروجیکٹ منتخب کرکے پھر اس پروجیکٹ کے تحت اپنا آئیڈیا پیش کرتی ہے اور آئیڈیا منظور ہونے پر وہ بچی اس پر کاروبار شروع کرتی ہے۔ جماعت چہارم کی عظمیٰ اشرف نے بتایا: ’میں اچار کا کاروبار کرتی ہوں۔ میرا اپنا ایک برانڈ ہے۔ گھر پر اچار بنا کر پیک کرتی ہوں اور پھر آن لائن بیچتی ہوں۔ یہ جب میں نے شروع کیا تو یہ کامیابی میرے والدین کے لیے حیران کن تھی۔ میں اب کافی کماتی بھی ہوں۔‘اسی طرح جماعت نہم کی بسما خان نے بتایا کہ ’ہمارا سکول دوسرے سکولوں سے اس لیے مختلف ہے کیوں کہ یہاں پڑھائی کے ساتھ سرگرمیوں کے ذریعے ہنر سیکھتی ہوں۔ میرا اپنا کاروبار ہے اور ساتھ میں سکول کے مختلف منصوبوں میں کام کرتی ہوں جس کا کریڈٹ سکول کی بانی ماں اور بیٹی کو جاتی ہے۔ اس سکول میں ہوتے ہوئے ایسا لگتا ہے کسی بیرونی ملک میں تعلیم حاصل کر رہی ہوں۔‘

ویب ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اس سکول میں

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین