رمضان سے قبل سعودی وزیر صحت کا مدینہ شہر کا دورہ، طبی مراکز کی تیاریوں کا جائزہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
سعودی وزیر صحت فہد عبدالرحمٰن الجلاجل نے آئندہ رمضان المبارک کے پیش نظر مدینہ منورہ کے اسپتالوں اور بنیادی صحت مراکز کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ رمضان المبارک کا آغاز 2 ہفتوں سے بھی کم عرصے میں متوقع ہے۔
وزیر صحت نے ریجنل حج و عمرہ کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی اور مدینہ کے اہم اسپتالوں اور پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹرز کا معائنہ کیا تاکہ زائرین اور مقامی آبادی کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کی تیاریوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب امریکا کے بعد بوئنگ کا بڑا شراکت دار، عالمی دفاعی نمائش میں انکشاف
دورے کے دوران انہوں نے خصوصی شعبہ جات میں کی جانے والی اپ گریڈیشن کا معائنہ کیا، جن میں انتہائی نگہداشت یونٹس، ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس اور آپریشنل سپورٹ سہولیات شامل ہیں۔
فہد الجلاجل نے آپریشن تھیٹرز کی بہتری، آؤٹ پیشنٹ کلینکس کی توسیع و بحالی اور نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت کے شعبوں میں کی جانے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔
یہ بھی پڑھیے: 14 ملین مسافر اور 30 ملین ٹن مال برادری کیساتھ سعودی ریلویز کا نیا ریکارڈ
مدینہ کا صحت کا نظام اس وقت تقریباً 200 طبی مراکز پر مشتمل ہے، جو 21 لاکھ سے زائد رہائشیوں کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔
وزارت صحت کے مطابق یہ دورے اس امر کو یقینی بنانے کا حصہ ہیں کہ تمام طبی مراکز اعلیٰ سطح کی تیاری برقرار رکھیں، مریضوں کی حفاظت، معیاری علاج اور بہترین انتظامی کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپتال سعودی عرب مدینہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپتال
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔