کابل/اسلام آباد (نیوز ڈیسک)افغان طالبان رجیم نے نیا جابرانہ فوجداری ضابطہ متعارف کرا دیا ہے جسے قانون کی آڑ میں آمریت اور خوف کے نظام کے نفاذ کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ طالبان اپنے غیر قانونی اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے نئے ضابطے کے ذریعے عوام پر جبر اور دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی پر گامزن ہو گئے ہیں۔

بین الاقوامی جریدے یوریشیا کے مطابق طالبان رجیم کا نیا فوجداری ضابطہ دراصل نظریاتی اطاعت مسلط کرنے اور جبر پر مبنی ریاستی حکمت عملی کا ڈھانچہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ضابطے کے تحت طبقاتی انصاف کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے جبکہ مذہبی اور سیاسی تنوع کو جرم بنا دیا گیا ہے۔

یوریشیا کے مطابق نئے طالبان ضابطے میں خواتین کی خودمختاری کو محدود کر دیا گیا ہے اور گھریلو تشدد کو عملی طور پر جائز قرار دینے کی راہ ہموار کی گئی ہے، جو انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کا نیا فوجداری ضابطہ خوف اور جبر کے ذریعے اقتدار کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے جو عام شہریوں کے تحفظ کے لیے شدید خطرات پیدا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ضابطہ انسانی حقوق، خواتین کی آزادی اور مذہبی اقدار کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے اور سماجی و طبقاتی ناانصافی کو فروغ دیتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی سے لے کر نام نہاد فوجداری ضابطے کے نفاذ تک طالبان رجیم کا جابرانہ چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہو چکا ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
https://dailymumtaz.

com/wp-content/uploads/2026/02/WhatsApp-Video-2026-02-09-at-8.59.21-AM.mp4

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: فوجداری ضابطہ طالبان رجیم گیا ہے

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی