ڈے زی پرائیویٹ لمیٹڈ کی زرعی و لائیو اسٹاک میں نمایاں پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
گرین پاکستان انیشیئٹوو (جی پی آئی) کی رہنمائی میں ڈے زی پرائیویٹ لمیٹڈ کی زرعی و لائیو اسٹاک میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق جی پی آئی کی موثر حکمت عملی سے زرعی و لائیو اسٹاک شعبہ جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار خوشحالی کی جانب گامزن ہے۔
ڈے زی نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے 3 ہزارایکڑ بنجر اور صحرائی زمین کو قابلِ کاشت بنایا۔ روڈز گراس اور الفالفہ جیسا قابلِ برآمدچارہ بھی جدید سینٹرل پیوٹ نظام کے تحت کاشت کیا جارہا ہے۔
لائیو اسٹاک کے شعبے میں بھی اعلیٰ امریکی نسلوں کے جانور وں کی جدید سائنسی افزائش طریقوں سے کی جا رہی ہے۔ جی پی آئی کے جدید اقدامات زرعی و لائیو اسٹاک شعبہ میں دیرپا استحکام اور پیش رفت کو یقینی بنا رہے ہیں۔
"آئی وی ایف" اور "ایمبریو ٹرانسفر" پروگرامزکے ذریعے جانوروں کی بہتر جینیاتی نسلیں حاصل کی جا رہی ہیں۔ جی پی آئی کی نگرانی میں ڈےزی پرائیویٹ لمیٹڈ جدیدزراعت اورلائیو اسٹاک ترقی کا نمایاں اور کامیاب ماڈل بن کر سامنے آیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: زرعی و لائیو اسٹاک جی پی آئی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک