Express News:
2026-07-24@02:52:15 GMT

ڈے زی پرائیویٹ لمیٹڈ کی زرعی و لائیو اسٹاک میں نمایاں پیش رفت

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

‍‍‍‍‍‍

گرین پاکستان انیشیئٹوو (جی پی آئی) کی رہنمائی میں ڈے زی پرائیویٹ لمیٹڈ کی زرعی و لائیو اسٹاک میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق جی پی آئی کی موثر حکمت عملی سے زرعی و لائیو اسٹاک شعبہ جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار خوشحالی کی جانب گامزن ہے۔

ڈے زی نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے 3 ہزارایکڑ بنجر اور صحرائی زمین کو قابلِ کاشت بنایا۔ روڈز گراس اور الفالفہ جیسا قابلِ برآمدچارہ بھی جدید سینٹرل پیوٹ نظام کے تحت کاشت کیا جارہا ہے۔

لائیو اسٹاک کے شعبے میں بھی اعلیٰ امریکی نسلوں کے جانور وں کی جدید سائنسی افزائش طریقوں سے کی جا رہی ہے۔ جی پی آئی کے جدید اقدامات زرعی و لائیو اسٹاک شعبہ میں دیرپا استحکام اور پیش رفت کو یقینی بنا رہے ہیں۔

"آئی وی ایف" اور "ایمبریو ٹرانسفر" پروگرامزکے ذریعے جانوروں کی بہتر جینیاتی نسلیں حاصل کی جا رہی ہیں۔ جی پی آئی کی نگرانی میں ڈےزی پرائیویٹ لمیٹڈ جدیدزراعت اورلائیو اسٹاک ترقی کا نمایاں اور کامیاب ماڈل بن کر سامنے آیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: زرعی و لائیو اسٹاک جی پی آئی

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان