چین، سی ایم جی اسپرنگ فیسٹیول گالا 2026 کی چوتھی ریہرسل کا کامیاب انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
چین، سی ایم جی اسپرنگ فیسٹیول گالا 2026 کی چوتھی ریہرسل کا کامیاب انعقاد WhatsAppFacebookTwitter 0 9 February, 2026 سب نیوز
بیجنگ : سی ایم جی اسپرنگ فیسٹیول گالا 2026 کی چوتھی ریہرسل کامیابی کے ساتھ مکمل کر لی گئی۔ بار بار کی مشق اور نکھار کے بعد مختلف نوعیت کے پروگرام مزید دلکش ہو گئے ہیں، فنکاروں کی کارکردگی میں بھرپور توانائی اور جذبہ نمایاں ہے جبکہ تمام سیگمنٹس کے درمیان ربط و تسلسل بھی مزید ہموار ہو چکا ہے۔
روایتی ثقافت کی جدت آمیز پیشکش سے لے کر چینی و غیر ملکی فنون کے بین الثقافتی امتزاج تک، پورا گالا ایونٹ نت نئے انداز، خوشی اور تہوار کی فضا سے بھرپور نظر آتا ہے، جو دنیا بھر میں بہار کی مشترکہ خوشیوں کا گرمجوش پیغام دیتا ہے۔اسپرنگ فیسٹیول کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شمولیت کے بعد، یہ تہوار چین اور دنیا کے درمیان ایک اہم ثقافتی رابطے کے طور پر مزید نمایاں ہو گیا ہے۔
دنیا کی مجموعی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ مختلف انداز میں اس تہوار کو مناتا ہے۔ رواں سال، سی ایم جی کی جانب سے “پریلوڈ ٹو دی اسپرنگ فیسٹیول گالا ” سرگرمیاں مرحلہ وار امریکہ، روس، فرانس، اٹلی اور افریقہ کے متعدد ممالک میں منعقد کی جا چکی ہیں، جو چینی ثقافت کی عالمی کشش کو مزید اجاگر کر رہی ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربی سی بی صدر اور آئی سی سی وفد کی محسن نقوی سے ملاقات، پاک بھارت میچ پر تفصیلی گفتگو اگلی خبرٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: آئی سی سی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور، پاک بھارت میچ ہونے کا امکان پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 5000 روپے سے زائد کا اضافہ سائفر کیس میں اہم پیش رفت؛ عمران خان سے فوری ملاقات کی درخواست مسترد دہشت گردوں سے روابط کا کیس؛ پی ٹی آئی رہنماؤں پر فرد جرم عائد بی سی بی صدر اور آئی سی سی وفد کی محسن نقوی سے ملاقات، پاک بھارت میچ پر تفصیلی گفتگو پاکستان کے خلاف ہر سازش میں ملک کے ساتھ کھڑے ہیں،بیرسٹر گوہر عمر ایوب اور شبلی فراز نے الیکشن دھاندلی کیخلاف احتجاج نہ کرنے کی ڈیل کی، فواد چوہدری کا دعویٰCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسپرنگ فیسٹیول گالا سی ایم جی
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔