لاہور میں رنگارنگ بسنت میلے کا اختتام، تینوں روز شہریوں نے خوب پیچ لڑائے
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) لاہور میں رنگارنگ بسنت میلہ اختتام کو پہنچ گیا، تینوں روز شہریوں نے خوب پیچ لڑائے۔
شہریوں کا جوش وخروش دیکھ کر وزیراعلی پنجاب مریم نواز بھی خوش ہوگئیں۔
انہوں نے ایکس پر پیغام میں لکھا تھا کہ لاہوریوں نے ہمارے اعتماد کی لاج رکھی، لاہوریوں نے قواعد و ضوابط پر عمل کر کے اعتماد قائم رکھا، خوش وخرم مگر محفوظ بسنت کا تصور پوری طرح اپنایا گیا۔
انہوں نے لکھا تھا کہ پیچوں پر پیچ لڑائے گئے، ہوا کے دوش پر پتنگوں کی آنکھ مچولی ہوتی رہی یہی خوشی ہے، چھتوں پر ایس او پیز کے مطابق بسنت محفوظ طریقے سے منائی گئی، لبرٹی اور اندرون شہر میں200 کلینک آن ویل متعین تھے،21 فیلڈ ہسپتال بھی بسنت کے دوران فعال رہے۔
ان کا کہنا تھاکہ عوام احتیاط کا دامن نہ چھوڑیں، سیف بسنت کا ماڈل دیگر شہروں میں بھی اپنایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ