این سی سی آئی اے نے فتنہ الہندوستان کا بیانیہ پھیلانے والا سرکاری ملازم پکڑ لیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
نیشنل سائبر کرائم ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے فتنہ الہندوستان کا بیانیہ پھیلانے والا سرکاری ملازم پکڑ لیا۔
این سی سی آئی اے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ملزم ظفر اقبال ریڈیو پاکستان کا نائب قاصد کے طور پر تعینات تھا، اندرونی انکوائری کے بعد ملزم کو ملازمت سے برطرف کیا گیا۔
این سی سی آئی اے نے کہا کہ ملزم نے این آئی آر سی سے اسٹے آرڈر لے رکھا تھا، ملزم نے فیس بک پر بی ایل اے کی حمایت میں 13 اشتعال انگیز پوسٹس لگائیں۔
کراچی میں دہشت گردی کی متعدد وارداتوں میں پولیس کو مطلوب کالعدم قوم پرست تنظیم کے ایک سرگرم رکن کو ملیر پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
ملزم کے خلاف کارروائی پیکا ایکٹ کے تحت کی گئی، عدالت نے ملزم کا 3 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا، ملزم پہلے ریڈیو پاکستان کوئٹہ میں نائب قاصد تھا۔
این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزم کے دہشت گردوں سے روابط کے شبے پر انکوائری ہوئی، ملزم پر سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز اور ریاست مخالف مواد پھیلانے کا الزام ہے۔
دوسری جانب عدالت نے ملزم کے ڈیجیٹل ڈیوائسز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس تجزیے کے لیے لینے کی اجازت دے دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سی سی آئی اے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔