گم شدہ انگوٹھی کے 44 سال بعد ملنے کی دلچسپ کہانی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک شخص کو اپنی گمشدہ انگوٹھی 44 برس بعد واپس مل گئی۔
یہ انگوٹھی نہ صرف ایک قیمتی زیور تھی بلکہ مالک کے لیے یادوں اور ماضی سے جڑی ایک اہم علامت بھی تھی، جس کی واپسی نے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔
مسیسپی سے تعلق رکھنے والے ڈیریئن لیڈنر کے مطابق یہ واقعہ 1982 کا ہے جب وہ پاس کرسچین کے ساحل پر منعقد ہونے والی ایک پارٹی میں شریک ہوئے تھے۔ اسی دوران ان کی پاس کرسچین ہائی اسکول کی کلاس رِنگ کہیں گم ہو گئی۔ انہوں نے فوری طور پر انگوٹھی تلاش کرنے کی کوشش کی، تاہم تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔
ڈیریئن لیڈنر کا کہنا ہے کہ انگوٹھی کی تلاش کے لیے انہوں نے اسسٹنٹ پرنسپل کے ساتھ مل کر میٹل ڈیٹیکٹر کا استعمال بھی کیا، لیکن اس کے باوجود انگوٹھی کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ وقت کے ساتھ یہ واقعہ ایک یاد بن کر رہ گیا اور انہیں امید بھی نہیں رہی کہ وہ انگوٹھی کبھی دوبارہ دیکھ سکیں گے۔
44 برس بعد ایک غیر متوقع موڑ اس وقت آیا جب انہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر سیمی جیویل نامی شخص کا پیغام موصول ہوا۔ پیغام میں بتایا گیا کہ انہیں ساحل کے قریب وہی انگوٹھی ملی ہے جو برسوں پہلے کھو گئی تھی۔ انگوٹھی پر کندہ نشانات نے اس کی شناخت ممکن بنا دی۔
ڈیریئن لیڈنر کے مطابق جب انہیں یہ پیغام ملا تو وہ یقین ہی نہیں کر پا رہے تھے کہ اتنے طویل عرصے بعد ان کی انگوٹھی واپس مل سکتی ہے۔ انہیں اس بات پر مزید حیرت ہوئی کہ انگوٹھی بالکل اسی جگہ سے ملی جہاں وہ برسوں قبل گم ہوئی تھی۔
اس واقعے کو سوشل میڈیا صارفین قسمت اور اتفاق کا عجیب امتزاج قرار دے رہے ہیں۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ یہ کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ بعض اوقات کھوئی ہوئی چیزیں وقت کے طویل فاصلے کے بعد بھی لوٹ آتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔