’ڈیتھ اسٹار‘ سے زیادہ طاقتور بلیک ہول، ماہرین کا حیران کن انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماہرین فلکیات نے خلا میں ایک ایسے بلیک ہول کی نشاندہی کی ہے جو غیر معمولی طاقت کے حامل توانائی سے بھرپور جیٹ خارج کر رہا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ کائنات میں اب تک دیکھے جانے والے روشن ترین اور طاقتور فلکی اجسام میں سے ایک ہو سکتا ہے، جس نے سائنسی دنیا میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
اس بلیک ہول کو عرف عام میں ’جیٹی مک جیٹ فیس‘ کہا جا رہا ہے، جبکہ اس کا سائنسی نام AT2018hyz ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بلیک ہول زمین سے تقریباً 66 کروڑ 50 لاکھ نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور ایک سپر میسیو بلیک ہول سے خارج ہونے والا انتہائی طاقتور جیٹ ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ منظر کسی خلائی بدہضمی سے مشابہ ہے، جہاں بلیک ہول ایک ستارے کو نگلنے کے بعد اس کی باقیات کو توانائی کے شدید دھماکے کی صورت میں باہر پھینک رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ ستارہ تقریباً 4 برس قبل بلیک ہول کا شکار بنا تھا اور اب اس کے اثرات ظاہر ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس جیٹ کی طاقت اتنی زیادہ ہے کہ اسے مشہور سائنس فکشن فلم اسٹار وارز کے تصوراتی ’ڈیتھ اسٹار‘ سے بھی زیادہ طاقتور قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ جیٹ روشنی کی رفتار کے قریب سفر کر رہا ہے اور انتہائی زیادہ توانائی خارج کر رہا ہے، جو کائناتی پیمانے پر ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔
تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات بلیک ہولز کے رویے، ان کی ساخت اور کائناتی ارتقا کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ بلیک ہول محض سب کچھ نگلنے والے اندھے کنویں نہیں بلکہ بعض حالات میں وہ مادے کو دوبارہ خلا میں خارج بھی کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اس طرح کے طاقتور جیٹس کہکشاؤں کی ساخت، ستاروں کی پیدائش اور کائناتی ماحول پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ مستقبل میں مزید مشاہدات کے ذریعے اس بلیک ہول کے اسرار سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی جائے گی، جو کائنات کے بارے میں ہمارے علم میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہنا ہے کہ بلیک ہول رہا ہے
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔