ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: اٹلی کے کپتان انجری کے باعث اسکاٹ لینڈ کے خلاف میچ سے باہر
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
اٹلی کے کپتان وین میڈسن اسکاٹ لینڈ کے خلاف جاری میچ سے باہر ہو گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق میچ کے دوران کندھے کی انجری کے بعد انہیں فوری طور پر میدان چھوڑنا پڑا۔
ٹیم مینجمنٹ کے مطابق وین میڈسن اب اس میچ میں دوبارہ حصہ نہیں لیں گے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ان کے کندھا ’ڈس لوکیٹ‘ ہوگیا ہے، جس کے باعث انہیں شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔
ٹیم مینجمنٹ کا کہنا ہے کہ میچ کے بعد ان کا مزید تفصیلی معائنہ کیا جائے گا تاکہ انجری کی نوعیت اور صحت یابی کے دورانیے کا اندازہ لگایا جا سکے۔
اٹلی کی ٹیم کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ وین میڈسن نہ صرف تجربہ کار کھلاڑی ہیں بلکہ ٹیم کی قیادت بھی کر رہے ہیں۔
ان کی غیر موجودگی میں ٹیم کو دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ اٹلی کا یہ کسی بھی آئی سی سی میگا ایونٹ میں پہلا میچ ہے۔
اٹلی کی ٹیم نے ٹاس جیت کر اسکاٹ لینڈ کو پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔