نیوزی لینڈ مساجد پر حملے: 51 مسلمانوں کا قاتل سزا کے خلاف میدان میں آگیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں 2019 میں ہونے والے ہولناک حملے میں 51 نمازیوں کو شہید کرنے والے سفید فام انتہا پسند برینٹن ٹیرنٹ نے اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلوی شہری برینٹن ٹیرنٹ، جسے اگست 2020 میں عمر قید بغیر پیرول کی سزا سنائی گئی تھی، نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ دورانِ سماعت اس کے ساتھ غیر انسانی اور اذیت ناک سلوک کیا گیا، جس کے باعث وہ اعترافِ جرم کے وقت درست فیصلے کی ذہنی حالت میں نہیں تھا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق ٹیرنٹ اس وقت آکلینڈ جیل کے انتہائی سخت سکیورٹی یونٹ میں قید ہے جہاں اسے دیگر قیدیوں یا افراد سے بہت محدود رابطہ حاصل ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کی ذہنی کیفیت اس حد تک متاثر تھی کہ وہ غیر منطقی بیانات دینے پر غور کر رہا تھا۔
برینٹن ٹیرنٹ نے مارچ 2019 میں کرائسٹ چرچ کی النور اور لن ووڈ مساجد میں فائرنگ کی تھی، حملے سے قبل ایک انتہا پسند منشور بھی شائع کیا اور قتل عام کو سوشل میڈیا پر براہِ راست نشر کیا تھا۔ حملے میں خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت 51 مسلمان شہید ہوئے تھے۔
اپیل کی سماعت ویلنگٹن میں نیوزی لینڈ کی کورٹ آف اپیل میں تین ججوں پر مشتمل بینچ کر رہا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو عدالتی کارروائی ویڈیو لنک کے ذریعے دکھائی جا رہی ہے، تاہم فیصلے کا اعلان بعد میں متوقع ہے۔
یاد رہے کہ یہ سزا نیوزی لینڈ کی تاریخ کی سخت ترین سزا سمجھی جاتی ہے۔ حملے کے بعد اس وقت کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے اسلحہ قوانین میں فوری اور سخت اصلاحات نافذ کی تھیں جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انتہا پسند مواد کے خلاف بھی اقدامات کیے گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیوزی لینڈ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔