بھارت، منی میں تازہ تشدد، 20 مکانات نذرآتش، کرفیو نافذ
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
سرکاری عہدیداروں نے کشیدگی کو خطے میں امن و سکون کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔ ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے اور حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کی شورش زدہ ریاست منی پور کے ضلع اکھرول میں تازہ ترین تشدد کے بعد جس میں کم از کم 20مکانات کو نذرآتش کیا گیا، کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اکھرول کے علاقے لیتن ساریکھونگ میں مسلح کوکی عسکریت پسندوں نے تنگکھول ناگا برادری سے تعلق رکھنے والے کم از کم 20 مکانات کو نذر آتش کر دیا۔ تازہ تشدد ایک تنگکھول ناگا شخص پر کوکی نوجوانوں کے ایک گروپ کی طرف سے مبینہ طور پر حملہ کے بعد شروع ہوا۔ اگرچہ یہ معاملہ متاثرہ شخص اور گاوں کے سربراہ کے درمیان روایتی بات چیت کے ذریعے حل کیا گیا تھا، لیکن اتوار کو مفاہمت کی ایک میٹنگ ناکام ہو گئی جس کے بعد قریبی علاقے شکی بنگ کے عسکریت پسندوں نے لیتن ساریکھونگ پر ایک مربوط حملہ کیا، گھروں اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا اور گاوں کے پولیس اسٹیشن کے آس پاس گولیاں چلائیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو فوٹیج میں مسلح افراد کو ہوا میں فائرنگ کرتے اور گھروں کو نذر آتش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ بھارتی فورسز نے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے تاہم صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ نذرآتش کئے گئے مکانات کی اصل تعداد ابتدائی اندازوں سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ اکھرول کے ضلعی حکام نے اتوار کی شام 7 بجے سے لیتن ساریکھونگ میں کرفیو نافذ کر دیا، رہائشیوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔ امن و امان برقرار رکھنے اور مسلح گروپوں کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے مہادیو، لمبوئی، شانگکئی اور آس پاس کے علاقوں میں اضافی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ سرکاری عہدیداروں نے کشیدگی کو خطے میں امن و سکون کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔ ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے اور حالات بدستور کشیدہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔