ڈیرہ غازی خان، سانحہ اسلام آباد کیخلاف احتجاجی ریلی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے رہنمائوں نے کہا کہ دہشت گرد ملک میں بدامنی پھیلانے کے منظم منصوبے پر کام کر رہے ہیں دہشت گرد گروہ بیرونی اشاروں اور غیر ملکی حمایت یافتہ نیٹ ورکس کے زیرِ اثر پاکستانی معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
ڈیرہ غازیخان، مجلس وحدت مسلمین کی سانحہ اسلام آباد کیخلاف احتجاجی ریلی، قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ
ڈیرہ غازیخان، مجلس وحدت مسلمین کی سانحہ اسلام آباد کیخلاف احتجاجی ریلی، قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ
ڈیرہ غازیخان، مجلس وحدت مسلمین کی سانحہ اسلام آباد کیخلاف احتجاجی ریلی، قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ
ڈیرہ غازیخان، مجلس وحدت مسلمین کی سانحہ اسلام آباد کیخلاف احتجاجی ریلی، قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ
ڈیرہ غازیخان، مجلس وحدت مسلمین کی سانحہ اسلام آباد کیخلاف احتجاجی ریلی، قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ
ڈیرہ غازیخان، مجلس وحدت مسلمین کی سانحہ اسلام آباد کیخلاف احتجاجی ریلی، قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ
ڈیرہ غازیخان، مجلس وحدت مسلمین کی سانحہ اسلام آباد کیخلاف احتجاجی ریلی، قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ
ڈیرہ غازیخان، مجلس وحدت مسلمین کی سانحہ اسلام آباد کیخلاف احتجاجی ریلی، قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ
ڈیرہ غازیخان، مجلس وحدت مسلمین کی سانحہ اسلام آباد کیخلاف احتجاجی ریلی، قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ
اسلام ٹائمز۔ اسلام آباد امام بارگاہ دھماکے کے خلاف مجلس وحدت مسلمین ضلع ڈیرہ غازی خان کے زیراہتمام پاکستانی چوک سے ٹریفک چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی، مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے صوبائی رہنما سید انعام حیدر زیدی، پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر اقبال ثاقب ایڈووکیٹ اور دیگر رہنمائوں نے ریلی کے شرکا سے خطاب کیا۔ ریلی میں بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ مظاہرین نے دہشت گردی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔رہنمائوں نے حملے کو نہایت سنگین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد ملک میں بدامنی پھیلانے کے منظم منصوبے پر کام کر رہے ہیں دہشت گرد گروہ بیرونی اشاروں اور غیر ملکی حمایت یافتہ نیٹ ورکس کے زیرِ اثر پاکستانی معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے ہر پاکستانی فکرمند ہے، دہشت گرد ملک کے امن کو تباہ کرنے کے درپے ہیں پاکستان میں بدامنی کے واقعات کی وجہ سے علاقائی تناومیں اضافہ ہو رہا ہے۔ دہشت گرد گروہ سرحد پار سے تربیت اور معاونت حاصل کر کے پاکستان میں حملے کرتے ہیں، جس سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔مقررین نے کہا کہ بار بار دہشت گردانہ حملے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو اجیرن بنا رہے ہیں،ملک میں انسدادِ دہشت گردی آپریشنز میں تیز رفتاری لانے کی ضرورت ہے۔ دہشت گرد عناصر کی سازشیں نہ صرف ملکی خودمختاری کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ عوامی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مجلس وحدت مسلمین کی سانحہ اسلام آباد کیخلاف احتجاجی ریلی قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ ڈیرہ غازیخان کر رہے ہیں
پڑھیں:
محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
(اویس کیانی)نیشنل پولیس اکیڈمی کے اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر کام تیزی سے جاری ہے، ایلیٹ ٹریننگ سکول میں ریپلنگ ٹاور پر 80 فیصد، جاگنگ ٹریک اور آبسٹیکلز پر 70 فیصد کام مکمل کر لیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ کیا۔
اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اپ گریڈیشن پراجیکٹ سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا، جس میں نیشنل پولیس اکیڈمی کی اپ گریڈیشن کے سلسلے میں جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
نیشنل پولیس اکیڈمی کے اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر کام تیز
ایلیٹ ٹریننگ سکول میں ریپلنگ ٹاور پر 80 فیصد،جاگنگ ٹریک اور آبسٹیکلز پر 70 فیصد کام مکمل
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ، اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر پیش رفت کا جائزہ لیا pic.twitter.com/PSzCboerya
اجلاس میں ایلیٹ سکول کی فائرنگ رینج اور باونڈری وال کو 2 ماہ میں مکمل کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔
دوران اجلاس نیشنل پولیس اکیڈمی کو مرحلہ وار سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری دی گئی، تمام کلاس رومز کو جدید آئی ٹی سہولیات سے لیس کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین سی ڈی اے، آئی جی اسلام آباد پولیس، ڈپٹی کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور دیگر اعلیٰ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔