رمضان المبارک؛ پاکستان میں صدقہ فطر اور فدیہ صوم کا نصاب جاری
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے رواں سال کے لیے صدقہ فطر اور فدیۂ صوم کا نصاب جاری کر دیا ہے۔
رواں سال صدقہ فطر اور فدیۂ صوم کم ازکم 300 روپے فی کس مقرر کیا گیا ہے۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے بتایا کہ گندم کے آٹے کے حساب سے 300 روپے، جو کے حساب سے 1100 روپے صدقہ فطر اور فدیۂ صوم ادا کیا جائے۔
اسی طرح کھجور کے حساب سے 1600 روپے، کشمش کے حساب سے 3800 روپے، منقیٰ کے حساب سے 5400 روپے اور سرکاری آٹے کے حساب سے 200 روپے صدقہ فطر اور فدیۂ صوم ادا کیا جائے۔
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ صدقہ فطر ہر غلام، آزاد، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے مسلمان پر فرض ہے۔ انہوں نے صاحبِ استطاعت افراد کو ہدایت کی کہ وہ گندم پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی مالی حیثیت کے مطابق صدقہ فطر ادا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحقین کی مدد ہو سکے۔
مزید پڑھیںرمضان المبارک: دنیا کے کن ممالک میں روزے سب سے طویل اور کہاں سب سے چھوٹے ہوں گے؟
ملک میں رمضان المبارک سے پہلے ہی مہنگائی نے سر اٹھانا شروع کر دیا
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں کے رہائشی اپنے علاقوں میں اجناس کی قیمتوں کے مطابق صدقہ فطر اور فدیۂ صوم ادا کریں۔
علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے مزید بتایا کہ گندم کے حساب سے 30 روزوں کا فدیہ 9000 روپے، جو کے حساب سے 30 روزوں کا فدیہ 33000 روپے، کھجور کے حساب سے 30 روزوں کا فدیہ 48000 روپے، کشمش کے حساب سے 30 روزوں کا فدیہ 114000 روپے اور منقیٰ کے حساب سے 30 روزوں کا فدیہ 162000 روپے ادا کرنا ہوگا۔ سرکاری آٹے کے حساب سے 30 روزوں کا فدیہ 6000 روپے بنتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جان بوجھ کر روزہ توڑنے کا کفارہ مسلسل 60 روزے رکھنا یا 60 مساکین کو 2 وقت کا کھانا کھلانا ہے۔
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کے مطابق گندم کا نصاب وزن کے لحاظ سے نصف صاع یعنی احتیاطاً 2 کلوگرام ہے جب کہ جو، کھجور اور منقیٰ کا نصاب ایک صاع یعنی احتیاطاً 4 کلوگرام بنتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کے حساب سے 30 روزوں کا فدیہ صدقہ فطر اور فدیہ کا نصاب
پڑھیں:
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔
اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔
موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔
کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔