پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے غیرقانونی اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وزارتِ خارجہ پاکستان کے ترجمان کے دفتر سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے حالیہ فیصلے اور اقدامات بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
’ان کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے میں غیرقانونی اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنا، یہودی بستیوں کو مضبوط بنانا اور ایک نیا قانونی و انتظامی ڈھانچہ نافذ کرنا ہے، جو عملی طور پر فلسطینی علاقوں کے غیرقانونی الحاق اور فلسطینی عوام کی بے دخلی کی کوششوں کو تیز کر رہا ہے۔‘
مزید پڑھیں:
مشترکہ بیان میں وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں اور مغربی کنارے میں توسیع پسندانہ پالیسیاں اور غیرقانونی اقدامات خطے میں تشدد اور عدم استحکام کو فروغ دے رہے ہیں۔
وزرا نے ان اقدامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف دو ریاستی حل کو کمزور کرتے ہیں بلکہ فلسطینی عوام کے اس ناقابلِ تنسیخ حق پر بھی حملہ ہیں جس کے تحت وہ 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق، مقبوضہ القدس کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے قیام کے حقدار ہیں۔
بیان میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے تمام غیرقانونی اقدامات کالعدم ہیں اور یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بالخصوص قرارداد 2334، کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جس میں 1967 کے بعد مقبوضہ فلسطینی علاقوں بشمول مشرقی القدس کی آبادیاتی ساخت، حیثیت اور کردار کو تبدیل کرنے کے تمام اسرائیلی اقدامات کی مذمت کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:
وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی 2024 کی مشاورتی رائے کا بھی حوالہ دیا، جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی پالیسیوں اور مسلسل موجودگی کو غیرقانونی قرار دیا گیا اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور مقبوضہ فلسطینی زمینوں کے الحاق کو باطل قرار دیا گیا۔
مشترکہ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں خطرناک کشیدگی، غیرقانونی اقدامات اور اسرائیلی حکام کے اشتعال انگیز بیانات روکنے پر مجبور کرے۔
مزید پڑھیں:
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ریاست کے قیام کو تسلیم کیے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ بین الاقوامی قانونی قراردادوں اور عرب امن منصوبے کے مطابق 2 ریاستی حل ہی وہ واحد راستہ ہے جو خطے میں منصفانہ، جامع اور دیرپا امن، سلامتی اور استحکام کو یقینی بنا سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اردن اسرائیل اقوام متحدہ انڈونیشیا پاکستان ترکیہ جنگ بندی خلاف ورزیوں خودمختار ریاست سعودی عرب سلامتی کونسل غزہ فلسطینی قطر متحدہ عرب امارات مصر وزرائے خارجہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اقوام متحدہ انڈونیشیا پاکستان ترکیہ خلاف ورزیوں خودمختار ریاست سلامتی کونسل فلسطینی متحدہ عرب امارات مقبوضہ فلسطینی علاقوں غیرقانونی اقدامات
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔