کراچی: ٹریفک حادثات میں ضعیف خاتون اور نجی بینک کا منیجر جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
کراچی:
شہر میں مختلف ٹریفک حادثات میں ضعیف خاتون اور نجی بینک کا منیجر جاں بحق ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق پیر کی صبح گڈاپ سٹی تھانے کے علاقے سپر ہائی وے بقائی پل چشتیہ ہوٹل کے قریب ٹریفک حادثے میں موٹر سائیکل سوار شخص جاں بحق ہوگیا جس کی لاش قانونی کارروائی کیلئے ایدھی ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی۔
متوفی کی شناخت 42 سالہ رمیزاختر حسین ولد اختر حسین کے نام سے کی گئی متوفی شخص مکان نمبر آر باسٹھ سیکٹر زیڈ 6 گلشن معمار کا رہائشی اورملیر کینٹ کے قریب واقع نجی بینک کا منیجرتھا۔
ایس ایچ او گڈاپ سٹی سرفراز جتوئی کے مطابق متوفی شخص کو نامعلوم تیز رفتار گاڑی نے ٹکر ماری تھی، موٹر سائیکل کو ٹکر لگی تو رمیز اختر سڑک پر گر گیا اسی دوران عقب سے آتی دوسری گاڑی نے رمیز اختر کو کچل دیا۔
حادثے کے بعد دونوں گاڑیوں کے ڈرائیور موقع سے فرار ہوگئے، پولیس کے مطابق حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیجز اورعینی شاہدین کے بیان حاصل کر رہے ہیں، حادثے کے ذمہ داروں کی گرفتاری کے لیے کوشش جاری ہے۔
ادھر کورنگی صنعتی ایریا تھانے کے علاقے کورنگی ویٹا چورنگی اٹک پمپ کے قریب نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے راہ گیر ضعیف خاتون جاں بحق ہوگئی جن کی لاش قانونی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کی گئی جہاں متوفیہ خاتون کی شناخت 70 سالہ عائشہ زوجہ سرفراز کے نام سے کی گئی۔
ایس ایچ او ناصرمحمود کے مطابق متوفیہ خاتون نشے کی عادی تھی اورسڑک کنارے فٹ پاتھ پر سورہی تھی کہ تیز رفتار نامعلوم گاڑی خاتون پر چڑھ گئی جس کے نتیجے میں خاتون موقع پر جاں بحق ہوگئی جبکہ گاڑی کا ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا جس کی تلاش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔