لیبیا کے ساحل کے قریب مہاجر کشتی ڈوب گئی، 53 افراد لاپتا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
طرابلس: شمال مغربی لیبیا کے ساحلی علاقے میں یورپ جانے کی کوشش کرنے والے مہاجرین کو لے جانے والی ایک ربڑ کی کشتی سمندر میں الٹنے سے المناک سانحہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 53 افراد کے جاں بحق یا لاپتہ ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جن میں دو کم سن بچے بھی شامل ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ ساحلی شہر زوارہ کے شمال میں پیش آیا، جہاں غیر قانونی مہاجرت کے لیے روانہ ہونے والی کشتی خراب موسم اور تیز لہروں کا شکار ہو گئی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کشتی 6 فروری کو سمندر میں ڈوبی، جس میں درجنوں افراد سوار تھے جو بہتر زندگی کی امید میں یورپ کا رخ کر رہے تھے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کیا، تاہم سمندر کی خراب صورتحال اور رات کے اندھیرے کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا رہا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اب تک متعدد لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ بڑی تعداد میں افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔ جاں بحق اور لاپتہ ہونے والوں کی حتمی تعداد کے تعین کے لیے مقامی حکام اور امدادی ادارے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔
لیبیا کا ساحلی خطہ کئی برسوں سے غیر قانونی مہاجرت کا اہم مرکز بنا ہوا ہے، جہاں سے افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس خطرناک سمندری راستے کو مسلسل جان لیوا قرار دیتی آئی ہیں اور بارہا خبردار کر چکی ہیں کہ ناقص کشتیوں میں سفر سینکڑوں جانیں نگل چکا ہے۔
حکام کے مطابق اس سانحے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو تلاش اور شناخت کے عمل میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر غیر قانونی مہاجرت کے المناک پہلو کو اجاگر کرتا ہے، جہاں بہتر مستقبل کی خواہش اکثر قیمتی جانوں کے ضیاع پر منتج ہو جاتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔