پنجاب میں کسی بھی جگہ ہڑتال نہیں ہوئی، عوام نے گالم گلوچ کو یکسر مسترد کر دیا، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
مریم نواز: فائل فوٹو
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ پنجاب میں کسی بھی جگہ ہڑتال نہیں ہوئی، عوام نے منفی رویوں اور گالم گلوچ کو یکسر مسترد کر دیا۔
لاہور میں بسنت فیسٹیول کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ کل ایک ہڑتال کی کال آئی ہوئی تھی، اتوار کے دن کو دکانیں بند ہوتی ہیں، عوام نے انتشاری اور فسادی ٹولے کی ہڑتال کو مکمل ناکام بنا دیا، پنجاب میں زیرو ہڑتال تھی، زیرو شٹر ڈاؤن، زیرو پہیہ جام تھا، فتنہ فساد کے کلچر کو لوگوں نے مسترد کیا، پی ٹی آئی کی عیاری چلی نہیں، ارب پتیوں کی کال غریب عوام کو نقصان پہنچانے کی کال تھی، خوش آئند بات تھی کہ لوگوں نے بدتمیزی کے کلچر کو مسترد کردیا۔
مریم نواز نے کہا کہ عوام کی جانب سے بسنت ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کیا گیا، لاہور کے عوام نے میرے اعتماد کی لاج رکھی۔ میں لاہوریوں کی خوشی دیکھ کر خوش ہوتی رہی، 25 سال بعد مناظر دیکھے کہ ہر چھت پر لوگ تھے، بسنت پنجاب کے کلچر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
امین السلام نے بنگلادیش کے موقف پر پاکستان کرکٹ بورڈ کا ساتھ دینے پر پی سی بی کا شکریہ ادا کیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ترلائی دھماکے کے متاثرین کے ساتھ ہیں، دھماکے کے بعد سرکاری سطح پر بسنت تقریبات منسوخ کردیں۔
مریم نواز نے مزید کہا کہ لاہوریوں کے چہروں پر خوشی دیکھ کر اچھا لگا، لاہور میں بسنت کی بحالی سے ثقافت بحال ہوئی، نوجوان نسل نے پہلی بار بسنت کو بہترین انداز سے منایا، میڈیا نے اس ایونٹ کو کور کیا، ان سب کا بہت بہت شکریہ، جین زی نے بسنت کو بھرپور انجوائے کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مریم نواز عوام نے کہا کہ
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔