سہراب گوٹھ میں پولیس کی کارروائی، لاپتہ لڑکی بازیاب، نقدی، زیورات اور سامان برآمد
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
نقدی، زیورات اور برآمد ہونیوالا سامان(تصویر سوشل میڈیا)۔
کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں پولیس نے کارروائی کرکے لاپتہ لڑکی کو بازیاب کرالیا۔ ایس ایس پی توحید میمن کے مطابق لاکھوں روپے نقدی، طلائی زیورات اور دیگر سامان بھی برآمد کیا گیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ لڑکی کے اغوا کا والد کی مدعیت میں تھانہ اتحاد ٹاؤن میں درج کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق لڑکی گھر سے لاکھوں روپے نقدی، ڈیڑھ تولہ طلائی زیورات، گھڑیاں، موبائل فون اور ٹیبلیٹ لے کر گئی تھی۔
ایس ایس پی توحید میمن کے مطابق لڑکی اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے گھر سے گئی تھی، والدین کے مزید تعلیم کے منع کرنے پر لڑکی گھر سے ناراض ہوکر گئی تھی۔
پولیس کے مطابق لڑکی نے رکشہ ڈرائیور کو لاوارث ظاہر کرکے پناہ حاصل کی۔ وہ رکشہ ڈرائیور کے گھر میں اس کے بچوں کے ساتھ رہائش پذیر تھی۔
ایس ایس پی کے مطابق لڑکی نے سہراب گوٹھ کے اسکول میں داخلہ بھی حاصل کر لیا تھا۔ بازیاب لڑکی کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے مطابق لڑکی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔