پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون کے فروغ پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون کے فروغ پر اتفاق WhatsAppFacebookTwitter 0 9 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس ) پاکستان کے سرکاری دورے پر آئی کمبوڈین وزیرِ تجارت چام نِمول نے وفد کے ہمراہ ایف پی سی سی آئی پریذیڈنٹ آفس کا دورہ کیا، جہاں ان کی ملاقات وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان، صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ اور وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل سے ہوئی۔ملاقات میں نائب صدر ایف پی سی سی آئی طارق جدون، چیئرمین کیپٹل آفس کریم عزیز ملک، چیئرمین کوآرڈینیشن ملک سہیل حسین، سینیئر بزنس لیڈر احمد چنائے سمیت دیگر کاروباری رہنماوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان مختلف شعبوں میں دو طرفہ اقتصادی و تجارتی تعاون کے فروغ کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ حکومت پاکستان نے ملکی معاشی ترقی کے لیے دیرپا اقدامات کیے ہیں جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ عرصے میں پاکستان میں اہم بین الاقوامی کانفرنسز کا انعقاد اور عالمی رہنماں کے دورے حکومتی ویژن کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمبوڈین وزیرِ تجارت کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔ عاطف اکرام شیخ نے آئی ٹی، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کی وسیع گنجائش پر زور دیتے ہوئے بزنس کمیونٹیز کے درمیان بی ٹو بی روابط کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا۔وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے کہا کہ چند سال قبل ملکی معیشت کو شدید چیلنجز کا سامنا تھا، مہنگائی 38 فیصد سے زائد اور شرح سود 22 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی اور مسلسل کوششوں کے نتیجے میں معیشت استحکام کے بعد ترقی کے راستے پر گامزن ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق معیشت کے تمام اعشاریئے مثبت ہیں اور عالمی ادارے بھی اس کا اعتراف کر رہے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹیز کو قریب لانے اور بی ٹو بی روابط کے فروغ کے لیے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔کمبوڈین وزیرِ تجارت چام نِمول نے کہا کہ کمبوڈیا کی پاکستان سے درآمدات کا بڑا حصہ فارماسیوٹیکل مصنوعات پر مشتمل ہے، تاہم دیگر شعبوں میں بھی باہمی تجارتی حجم بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کمبوڈین حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ٹیکس فری اور منافع بخش سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کر رہی ہے اور پاکستانی سرمایہ کاروں کو کمبوڈیا میں موجود مواقعوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل نے کمبوڈین وزیرِ تجارت کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے معیشت کو استحکام کے راستے پر گامزن کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ویژن کے باعث آج پاکستان کی معیشت ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں اور شرح سود میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق پیداواری لاگت میں کمی، سرمایہ کاروں کو سہولت دینا اور برآمدات میں اضافہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔چیئرمین کوآرڈینیشن ایف پی سی سی آئی ملک سہیل حسین نے کہا کہ پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں اور دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹیز کو ان مواقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا سے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے وفد کی ملاقات چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا سے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے وفد کی ملاقات حکومتی اصلاحات کا مقصد عام آدمی کی زندگی میں آسانی لانا ہے،وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک اسحاق ڈار کے بیٹے علی مصطفی ڈار مشیر وزیراعلی پنجاب برائے مصنوعی ذہانت و خصوصی اقدامات مقرر چینی صدر اور وزیر اعظم کاپاکستانی قیادت سے اسلام آباد بم دھماکے پر تعزیت کا اظہار چیف جسٹس سے اقوامِ متحدہ کے وفد کی ملاقات، عدالتی اصلاحات پر تبادلہ خیال پنجاب میں کسی بھی جگہ ہڑتال نہیں ہوئی، عوام نے منفی رویوں اور گالم گلوچ کو یکسر مسترد کر دیا، وزیراعلیٰ مریم نوازCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان تعاون کے کے فروغ
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔