گھر آئے مہمان کو عزت دی جاتی ہے، آئی سی سی سے رابطے جاری ہیں: چیئرمین پی سی بی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور:چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے کہا ہے کہ جب مہمان گھر آ جائے تو بہت سی باتیں بھلا دی جاتی ہیں اور آئی سی سی کے ساتھ جاری بات چیت میں بھی یہی نقطہ نظر اپنایا جا رہا ہے۔
محسن نقوی نے بتایا کہ آئی سی سی اور بنگلا دیش کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور جیسے ہی کوئی حتمی جواب آئے گا، وہ شائقین کرکٹ سے شیئر کیا جائے گا، آئی سی سی کے ساتھ چیزیں چل رہی ہیں، میں بھی انتظار کر رہا ہوں، اطلاع آتی تو شیئر کریں گے، ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔ جب کوئی خود چل کر آجائے تو بہت سی باتیں بھول جانا چاہیے۔
چیئرمین پی سی بی نے مزید کہا کہ کئی دوست ممالک نے رابطہ کیا ہے اور پاکستان نے اپنا نقطہ نظر بھی واضح کر دیا ہے، نہ وہ کسی سے ڈرتے ہیں، نہ حکومت سے اور نہ ہی فیلڈ مارشل سے، چیئرمین پی سی بی آج وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کر سکتے ہیں، جس میں انہیں آئی سی سی کے وفد سے ہونے والی ملاقات کے نتائج سے آگاہ کیا جائے گا۔ گزشتہ روز آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین لاہور آئے اور انہوں نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان-بھارت میچ کے حوالے سے فارمولا پیش کیا، جس میں پاکستان اور بنگلا دیش کے مابین معاملات کو مدنظر رکھا گیا۔
خیال رہے کہ پاکستان نے بھارت سے 15 فروری کو شیڈول میچ کھیلنے سے انکار کیا تھا، جبکہ بنگلا دیش نے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست دی تھی، جسے آئی سی سی نے مسترد کر دیا اور بنگلا دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا۔ پاکستان کے جواب میں بھارت سے میچ نہ کھیلنے کے فیصلے سے آئی سی سی کو بھاری مالی نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔
محسن نقوی کے مطابق حتمی فیصلہ وزیراعظم کے دستخط سے ہوگا اور پی سی بی آئی سی سی کے ساتھ تعلقات میں تعمیری موقف اختیار کرتا رہے گا تاکہ شائقین کرکٹ کے لیے سب سے مناسب حل نکالا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آئی سی سی کے بنگلا دیش پی سی بی
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔