اسرائیلی حملوں نے غزہ میں جنگ بندی کو بےمعنی کردیا: حماس
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حماس نے کہا کہ اسرائیلی حملوں نے غزہ میں جنگ بندی کو بے معنی کردیا۔
حماس کا کہنا ہے ثالثوں کی امن کوششیں اسرائیل کی جانب سے نظر انداز کی جا چکی ہیں، غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیاں مسلسل جاری ہیں، حماس نے مزید کہا کہ امریکا اور دیگر ثالث ممالک اسرائیل کو جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے روکیں۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے امریکی میڈیا نے بتایا تھا کہ واشنگٹن میں شیڈول میٹنگ کیلئے ارکان کو دعوت نامے ارسال کر دیئے ہیں، میٹنگ کی میزبانی امریکی صدر ٹرمپ، بورڈ ممبران اور غزہ ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کریں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ بورڈ آف پیس کے چیئرمین ہیں۔
برطانیہ، فرانس اور ناروے سمیت اہم یورپی ممالک نے پیس بورڈ کو اقوام متحدہ کی حیثیت چیلنج کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اس میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے، بورڈ آف پیس کا مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا اور غزہ کی تعمیر نو ہے۔
میٹنگ کا ایجنڈا ابھی سامنے نہیں لایا گیا تاہم امریکی میڈیا کے مطابق غزہ بورڈ کا قیام صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش غزہ ڈیل کے دوسرے حصے پر عمل قرار دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔