سینیٹر فیصل واوڈا کی صدر مملکت سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
سینیٹر فیصل واوڈا نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے اہم ملاقات کی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایوان صدر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے سینیٹر فیصل واوڈا کی ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم شریک ہوئے جبکہ صدرِ مملکت سے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماامتیاز شیخ نے بھی ملاقات کی جس میں سندھ سے متعلق امور زیرِ غور آئے۔
سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اورسینیٹر فیصل واوڈا بھی ملاقات میں شریک تھے۔ ترجمان صدر مملکت کے مطابق ملاقاتوں میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور پارلیمانی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سینیٹر فیصل واوڈا
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔