کائنات کیا ہے؟ (پہلا حصہ)
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
دنیا میں اگر کسی موضوع پر سب سے زیادہ کہا گیا ہے اور سنا گیا ہے لکھا گیا اور پڑھا گیا ہے لیکن اس سب کہے گئے،سنے گئے،لکھے گئے اور پڑھے گئے کو اکٹھا کرکے دیکھا جائے تو’’سوال‘‘ اب بھی اپنی جگہ ویسا ہی کھڑا ہے۔کہ کائنات کیا ہے ؟
اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قطرہ سمندر کا،ذرہ صحرا کا اور ایک پتا جنگل کا احاطہ کرنا چاہتا ہے جو ناممکن ہے کوئی ’’جزو‘‘ اپنے’’کُل‘‘ کا احاطہ کرہی نہیں سکتا ہے۔ اس سلسلے میں خوشحال خان خٹک کا ایک شعر شاید کچھ رہنمائی کرے۔اس شعر پر امیر حمزہ شنواری نے ایک کتاب لکھی ہے، شعر ہے ؎
پہ ہر سہ کے نندارہ د ھغہ مخ کڑم
چہ لہ ڈیرے پیدایی نہ ناپدید شہ
ترجمہ۔میں ہر چیز میں وہ وہ چہرہ دیکھتا ہوں جو بہت زیادہ ’’پیدائی‘‘ کی وجہ سے ناپید ہوگیا ہے۔اب ذرا اس ہستی انسان کی بضاعت،رسائی وجود حیثیت اور حقیقت کا بھی تھوڑا سا اندازہ لگایا جائے جو تلاش میں نکلا ہے سرگرداں ہے اور اس کی حیثیت ماہیت اور بضاعت کا اندازہ ہم تب لگا پائیں گے جب اس بے حد و بیکراں کائنات کے تناظر میں اسے دیکھنے کی کوشش کریں تو پہلے اس کائنات کے بارے میں جانکاری حاصل کرتے ہیں۔
یہ کائنات جس میں ہم اس وقت موجود ہیں اس کے بارے میں طبعیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وسعت یا درمیانی فاصلہ پندرہ کھرب نوری سالہے، پندرہ۔کھرب۔نوری سال۔’’نوری سال‘‘ کے بارے میں اکثر لوگ جانتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے روشنی ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ایک سیکنڈ۔جس میں۔ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل۔اس سے آگے پھر ساٹھ سیکنڈ یا ایک منٹ کا حساب تصور میں لایئے، منٹ کے بعد گھنٹوں،دنوں، مہینوں اور سالوں کا حساب بھی۔پھر آگے صرف ایک نہیں،سو نہیں، ہزار لاکھ کروڑ بھی نہیں، ارب بھی نہیں، کھرب سال کا اور پھر پندرہ کھرب کا حساب بھی ذہن میں لائیے۔
یہ تو ایک پہلو سے کائنات کی وسعت ہوئی اب ایک اور جہت سے بھی اندازہ لگاتے ہیں۔ہماری یہ زمین سورج کے خاندان یعنی نظام شمسی کی ایک رکن ہے اور اس خاندان میں ہماری زمین کی طرح اور اس سے بھی بڑے اراکین آٹھ دس اور ہیں۔اور کوششوں کے باجود ابھی انسان ان میں سے کسی حد تک بھی پہنچ پایا، صرف چاند تک پہنچا ہے لیکن چاند تو کوئی سیارہ ہے ہی نہیں بلکہ ہماری اس زمین ہی کی اولاد اور سب سے قریب ہے، اگر چاندوں کو دیکھا تو ان باقی سیاروں کے آٹھ چاند بھی ہیں۔
آگے ماہرین کہتے ہیں، ہمارے اس نظام شمسی کی طرح سوارب نظامائے شمسی ہماری اس سامنے والی کہکشاں میں اور بھی ہیں۔جی ہاں سوارب۔صرف ہماری اس کہکشاں میں۔جسے اصطلاح میں ملکی وے یا دودھان کہکشاں کہا جاتا ہے پھر اس کائنات میں اس طرح کے سوارب کہکشاں اور ہیں۔گویا سوارب جمع سوارب نظام شمسی اور ان میں عین ممکن ہے کہ ہماری اس زمین کی طرح اور بھی ’’زمینیں‘‘ہوں۔اور یہ بھی پرانا حساب ہے تازہ ترین حساب کے مطابق ایک امریکی ماہر فلکیات وکونیات نے بتایا ہے کہ یہ تعداد آٹھ گنا زیادہ بھی ہوسکتی ہے گویا سو ارب جمع آٹھ۔زمینیں اور بھی ہوسکتی ہیں اور فاصلوں کے بارے میں یوں سوچیے کہ ناسا کے ماہرین نے کچھ عرصہ پہلے ایک سیارے کے بارے میں بتایا کہ اس میں ’’پانی‘‘ ہوسکتا ہے لیکن وہ ہم سے آٹھ ہزار نوری سال کے فاصلے پر ہے۔
اوپر سے سٹفن ہاکنگ کے مطابق اس کائنات کے علاوہ اور بھی کائناتیں ہوسکتی ہیں کیونکہ کائنات تو ہم اس زمان و مکان کو کہتے ہیں جس میں ہم موجود ہیں۔جو ایک ذرے کے پھٹنے سے پیدا ہوئی ہے لیکن وہ ذرہ جہاں، جس خلا میں پھٹا تھا وہ کیا ہے چنانچہ اب ماہرین نے کائنات(یونیورس) کی جگہ خلا کے لیے بسیط کا لفظ’’کاسموس‘‘ وضع کیا ہے۔یہ تو کائنات میں انسان کی جسمانی حیثیت بضاعت ماہئیت اور حقیقت ہوئی۔اب اس کی ذہنی حیثیت دیکھتے ہیں۔
یہ کائنات موجودہ نظریہ بگ بینک کے تحت آج سے لگ بھگ بیس ارب سال پہلے وجود میں آئی پھر لگ بھگ سولہ ارب سال یہ پھیلتی رہی اس میں بہت کچھ پیدا ہوتا رہا فنا ہوتا رہا تبدیلیاں رونما ہوتی گئیں اور ہماری یہ کہکشاں اور نظام شمسی وجود میں آئے اور چار ارب سال پہلے ہمارا یہ کرہ ارض سورج سے جدا ہوکر الگ ستارہ بنا۔ابتدا میں یہ صرف آگ کا ایک گولہ تھی پھر وقت کے ساتھ سرد ہوئی طبعیاتی تبدیلیاں ہوئیں بادل بارشیں اور دوسرے عوامل کے ساتھ ساتھ مختلف عناصر بھی پیدا ہونے کے بعد ساڑھے تین ارب سال میں طبعیاتی تبدیلیاں ہونے کے بعد آج سے ستاون کروڑ سال پہلے جب یہ سارا کرہ ارض تقریباً نو پانی اور ایک حصہ خال خال خشکی پر مشتمل تھا۔پانی نما کیچڑ یا کیچڑنما پانی(طین لازب) میں حیات کا پہلا جرثومہ پھوٹا۔کیسے؟ بے جان مادے میں جان کیسے پڑی؟ یقین سے اس کے بارے میں کوئی بھی نہیں کہہ سکتا ایک نظریہ یہ ہے کہ آسمانی بجلیوں سے مادے میں کوئی ایسا ’’خارج‘‘منتقل ہوا کہ اس میں جان پڑ گئی ایک اور نظریہ یہ ہے کہ پانی کی جنبش اور ہلکوروں سے مادے میں حرکت منتقل ہوگئی اور یہ سارے نظریے ’’شاید‘‘ کے دائرے میں ہے کیونکہ زندگی یا حیات کی بنیاد’’پروٹوپلازم‘‘ ہے اور وہ اتنا نازک ہوتا ہے کہ کسی تجربے یا تجزیے کی تاب نہ لاکر تلف ہوجاتا ہے۔
ایک واحد خلیے پر مشتمل وہ پہلی مخلوق(نفس واحد) ایک سے دو ٹکڑے ہوجاتی تھی دو سے چار۔چار سے آٹھ یہی اس کا طریقہ تولیدو تناسل تھا۔ڈارون کے نظریہ ارتقا کے مطابق ہر دوسرا اپنے پہلے سے کچھ مختلف اور بڑھ کر پیدا ہوتا ہے چنانچہ یہ ارتقا کا سفر چلتا رہا۔ایک خلیے سے کثیرالخلوی مخلوقات پیدا ہوتی رہیں۔ایک مرحلے پر نباتات کی شاخ الگ ہوئی پھر انڈے دینے والے اور دودھیل شاخیں الگ ہوئیں دو دھیل شاخ میں آگے چل کر انسان تک بات پہنچی مولانا روم نے اس سفر کو یوں بیان کیا ہے
آمد اول بہ اقلیم جامد
وزجامدی در نباتی اوفتاد
سالہا اندر نباتی عمر کرد
وزجمادی یاد ناورد ازنبرد
ازنباتی چوں بہ حیوانی فتاد
نامدش حال نباتی ھیچ یاد
جز ھماں میلے کہ دارد سوئے آں
خاصہ در وقت بہارو ضمیراں
باز حیواں سوئے انسانیش
مے کشید آں خالقے کہ دانیش
ہم چنیں اقلیم تا اقلیم رفت
تاشد اکنوں عاقل ودانا وزقت
ترجمہ۔پہلی آمد جمادات کی صورت میں ہوئی پھر جمادات سے نباتات میں آیا لیکن اپنی جمادی حالت بھول گیا پھر جب حیوانی مرحلے میں آیا تو اپنا نباتاتی دور یاد نہیں رہا سوائے اس میلان کے جو یہ نباتات کی طرف رکھتا ہے خاص طور بہار میں پھر حیوان سے انسان کے مرحلے میں پہنچا تو اپنی حیوانی حالت بھول گیا۔یوں اقلیم سے اقلیم میں لے جاتا رہا اسے وہ خالق جو اسے جانتا تھا یہاں تک کہ یہ عاقل و دانا اور ذہین ہوگیا۔
(جاری ہے)
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے بارے میں نوری سال ہے لیکن اور بھی ارب سال ہے اور گیا ہے کیا ہے اور اس
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔