برطانوی شہزادہ ولیم اپنے پہلے سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
ریاض:
برطانیہ کے شہزادہ ولیم تین روزہ سرکاری دورے پر ریاض پہنچ گئے، جو سعودی عرب کا ان کا پہلا باضابطہ دورہ ہے۔ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نائب امیرِ ریاض شہزادہ محمد بن عبدالرحمن نے ان کا استقبال کیا۔
استقبالیہ تقریب میں برطانیہ میں سعودی سفیر شہزادہ عبداللہ بن خالد بن سلطان اور سعودی عرب میں برطانوی سفیر اسٹیفن چارلس ہچن بھی موجود تھے۔
کینسنگٹن پیلس کے مطابق یہ دورہ برطانوی حکومت کی جانب سے کیا جا رہا ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
شہزادہ ولیم اپنے قیام کے دوران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب گزشتہ برس برطانوی وزیر خزانہ کے دورۂ سعودی عرب کے نتیجے میں 6.
دورے کے دوران شہزادہ ولیم سعودی عرب کی معاشی اصلاحات، ثقافتی سرگرمیوں اور ماحولیاتی منصوبوں سے متعلق مختلف تقریبات میں شرکت کریں گے۔
اس کے علاوہ وہ نوجوان سعودی شہریوں سے ملاقات کریں گے اور پائیدار ترقی، شہری منصوبہ بندی، خواتین کے کھیلوں، ای اسپورٹس اور تحفظِ ماحول سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیں گے۔
شہزادہ ولیم ماضی میں بھی سعودی ولی عہد سے ملاقات کر چکے ہیں۔ مارچ 2018 میں انہوں نے اپنے والد، اُس وقت کے شہزادہ چارلس کے ہمراہ، لندن میں محمد بن سلمان کے اعزاز میں عشائیہ دیا تھا جبکہ ملکہ الزبتھ دوم نے بھی اسی روز سعودی ولی عہد سے علیحدہ ملاقات کی تھی۔
اپنے دورے کے دوران شہزادہ ولیم تاریخی شہر العُلا کا بھی رخ کریں گے، جہاں وہ جنگلی حیات کے محفوظ علاقوں کا معائنہ کریں گے، مقامی کمیونٹی سے ملیں گے اور پرنس آف ویلز ہاؤس کا دورہ کریں گے، جو برطانیہ اور سعودی عرب کے درمیان فنون اور ثقافتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شہزادہ ولیم کریں گے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔