ریاض:

برطانیہ کے شہزادہ ولیم تین روزہ سرکاری دورے پر ریاض پہنچ گئے، جو سعودی عرب کا ان کا پہلا باضابطہ دورہ ہے۔ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نائب امیرِ ریاض شہزادہ محمد بن عبدالرحمن نے ان کا استقبال کیا۔

استقبالیہ تقریب میں برطانیہ میں سعودی سفیر شہزادہ عبداللہ بن خالد بن سلطان اور سعودی عرب میں برطانوی سفیر اسٹیفن چارلس ہچن بھی موجود تھے۔

کینسنگٹن پیلس کے مطابق یہ دورہ برطانوی حکومت کی جانب سے کیا جا رہا ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

شہزادہ ولیم اپنے قیام کے دوران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب گزشتہ برس برطانوی وزیر خزانہ کے دورۂ سعودی عرب کے نتیجے میں 6.

4 ارب پاؤنڈ (8.7 ارب ڈالر) مالیت کے تجارتی اور سرمایہ کاری معاہدے طے پائے تھے۔

دورے کے دوران شہزادہ ولیم سعودی عرب کی معاشی اصلاحات، ثقافتی سرگرمیوں اور ماحولیاتی منصوبوں سے متعلق مختلف تقریبات میں شرکت کریں گے۔

اس کے علاوہ وہ نوجوان سعودی شہریوں سے ملاقات کریں گے اور پائیدار ترقی، شہری منصوبہ بندی، خواتین کے کھیلوں، ای اسپورٹس اور تحفظِ ماحول سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیں گے۔

شہزادہ ولیم ماضی میں بھی سعودی ولی عہد سے ملاقات کر چکے ہیں۔ مارچ 2018 میں انہوں نے اپنے والد، اُس وقت کے شہزادہ چارلس کے ہمراہ، لندن میں محمد بن سلمان کے اعزاز میں عشائیہ دیا تھا جبکہ ملکہ الزبتھ دوم نے بھی اسی روز سعودی ولی عہد سے علیحدہ ملاقات کی تھی۔

اپنے دورے کے دوران شہزادہ ولیم تاریخی شہر العُلا کا بھی رخ کریں گے، جہاں وہ جنگلی حیات کے محفوظ علاقوں کا معائنہ کریں گے، مقامی کمیونٹی سے ملیں گے اور پرنس آف ویلز ہاؤس کا دورہ کریں گے، جو برطانیہ اور سعودی عرب کے درمیان فنون اور ثقافتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شہزادہ ولیم کریں گے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ