بڑے طبقے کو بجلی کی قیمت میں 70فیصد رعایت دینا ریاست کے بس کی بات نہیں‘وزیر توانائی
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260210-08-24
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ بڑے طبقے کو بجلی کی قیمت میں 70 فیصد رعایت دینا ریاست کے بس کی بات نہیں۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 90 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 10 لاکھ ہوچکی ہے۔اویس لغاری نے کہا کہ کئی صاحب حیثیت افراد سولر سسٹم لگا کر خود کو 200 یونٹ سے کم استعمال کرنے والوں میں شامل کرلیتے ہیں، ایسے میں اتنے بڑے طبقے کو بھاری سبسڈی دینا ریاست کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ حالیہ صنعتی ریلیف کے تحت وزیراعظم نے کراس سبسڈی کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں صنعتی بجلی کے نرخ اب خطے کے دیگر ممالک کے قریب آ چکے ہیں جب کہ بنگلادیش میں بجلی 6 سے 7 سینٹ فی یونٹ ہونے کے دعوے درست نہیں ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔