ٹرمپ کا بورڈ آف پیس ایک گہری سازش ہے‘ اسلم فاروقی
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر) بانیان پاکستان کی اولادوں کی تنظیم محب قومی سماجی کونسل (ایم کیو ایس سی) پاکستان کے چیئرمین و محب وطن سماجی رہنما محمد اسلم خان فاروقی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بورڈ آف پیس ایک گہری سازش ہے حکومت پاکستان کا صدر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل ہونا پاکستان کے فلسطین پر اصولی مؤقف سے دستبرداری کے مترادف ہے جبکہ بانی پاکستان قائد اعظم کا فلسطین کے حوالے سے واضح مؤقف ہے جس پر کمپرومائز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار اسلم خان فاروقی نے غزہ بورڈ آف پیس کی 19فروری کو امریکا میں ہونے والی پہلی مٹنگ کے حوالے سے ضلع وسطی میں اسلامی جمہوری اتحاد پاکستان کے صوبائی صدر علامہ مرتضیٰ خان رحمانی سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اسلم خان فاروقی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ عالم اسلام کا دشمن اور قابض اسرائیل کا بہت بڑا حمایتی ہے حکومت پاکستان کے صدر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے بعد علماء کرام اور مذہبی جماعتوں کو چاہیے کہ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے خلاف بھرپور میدان میں نکلیں اور حکومت پاکستان پر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس سے باہر نکلنے کے لیے مکمل دباؤ ڈالیں اور 19فروری کو فلسطینیوں سے اظہار یک جہتی کا اعلان کریں۔ اسلم خان فاروقی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اہل غزہ اور اہل فلسطین پر جو ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں اس میں صدر ٹرمپ شریک جرم ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹرمپ کے بورڈ ا ف پیس اسلم خان فاروقی پاکستان کے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔