صنعتوں کے لیے جدت کا فروغ ضروری ہے ‘ شاہ سہگل
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (کامرس ڈیسک) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے نائب صدر شان سہگل نے نیشنل انکیوبیشن سینٹر حیدرآباد میں منعقد ہونے والے 7ویں انویسٹر سمٹ میں شرکت کی، جہاں سرمایہ کاروں، اسٹارٹ اپس اور صنعت سے وابستہ رہنماؤں نے بانیوں کی قیادت میں جدت کو فروغ دینے کے لیے تفصیلی اور بامقصد گفتگو کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شان سہگل نے این آئی سی کے پروگرام منیجر قحافہ آزاد اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام نہ صرف نوجوان کاروباری افراد کو سرمایہ کاروں تک رسائی فراہم کرتے ہیں بلکہ انہیں عملی رہنمائی، مارکیٹ فہم اور کاروباری توسیع کے مواقع بھی مہیا کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کاروباری ترقی کے لیے انکیوبیشن مراکز اور تجارتی اداروں کے درمیان مضبوط روابط ناگزیر ہیں، تاکہ نئے آئیڈیاز کو مستحکم کاروبار میں تبدیل کیا جا سکے۔سمٹ کے دوران مختلف سرگرمیاں انجام دی گئیں جن میں اسٹارٹ اپ آئیڈیاز کا تفصیلی جائزہ، سرمایہ کاروں کے ساتھ ون آن ون ملاقاتیں، اسٹرٹیجک گائیڈنس سیشنز، اور کاروباری توسیع و سرمایہ کاری سے متعلق مباحثے شامل تھے۔ اس موقع پر شان سہگل نے اسٹارٹ اپ لیڈرز کو عملی مشورے دیے اور انہیں چیمبر کی رکنیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے کاروبار کو وسعت دینے کی ترغیب دی۔ یہ انویسٹر سمٹ بامعنی مکالمے، مضبوط شراکت داریوں اور اعتماد پر مبنی کاروباری ماحول کے فروغ کا مظہر تھا، جہاں مختلف سرمایہ کار اداروں اور کاروباری تنظیموں نے شرکت کر کے مقامی اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو تقویت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔نائب صدر نے کہا کہ حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری نوجوان کاروباری افراد، چھوٹے صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا رہے گا، تاکہ حیدرآباد اور سندھ بھر میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دے کر ملکی معیشت میں مثبت کردار ادا کیا جا سکے۔اس موقع پر چیمبر ممبران امیت جسوانی اور پرکاش بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاروں
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔