ملک کے 500 سے 5000 سیاستدانوں کو گولی مار دی جائے تو مسائل حل ہوسکتے ہیں: فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران سیاست میں کردار ادا کرنے والے بعض عناصر کے خلاف انتہائی کڑے اقدامات ہی اصلاحِ احوال کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو اور بعد ازاں نجی ٹی وی کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے ملک کی سیاسی صورتحال، پارلیمانی امور اور مستقبل کی آئینی و قانونی اصلاحات پر کھل کر بات کی۔
سینیٹر فیصل واوڈا کہنا تھا کہ پاکستان کو درپیش مسائل کی جڑ گزشتہ 30 برسوں کی ناکام پالیسیوں اور مفاد پرستانہ طرزِ سیاست میں پیوست ہے، جس کے باعث نظام کو درست سمت میں لانے کے لیے غیر معمولی اور سخت فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ اگر گزشتہ 30 سال کے کم سے کم 500 اور زیادہ سے زیادہ 5000 سیاستدانوں کو گولی مار دیں تو ملک کے مسائل بڑی حد تک حل ہو سکتے ہیں، احتساب کے بغیر نظام کی اصلاح ممکن نہیں اور اگر سخت اقدامات نہ کیے گئے تو حالات میں بہتری کی کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ ان بیانات نے سیاسی و سماجی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے، جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے ان خیالات کو غیر مناسب اور اشتعال انگیز قرار دیا جا رہا ہے۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے اس موقع پر آئینی اصلاحات کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ آئندہ دنوں میں 28ویں آئینی ترمیم ناگزیر دکھائی دیتی ہے، جس کے ذریعے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ سمیت متعدد اہم قومی معاملات کو باہمی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے طے کیا جائے گا، موجودہ سیاسی حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیں۔
صدر مملکت سے ملاقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے بتایا کہ گفتگو کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی فضا، پارلیمانی معاملات اور قومی اہمیت کے مختلف امور زیرِ بحث آئے، جن پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وسیع تر سیاسی اتفاق اور مؤثر حکمتِ عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سینیٹر فیصل واوڈا فیصل واوڈا نے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔