خیبر پختونخوا کو مزید تجربہ گاہ نہیں بننے دوں گا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
پشاور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر دور میں خیبر پختونخوا کو تجربہ گاہ بنایا گیا جس کے منفی اثرات صوبے نے برداشت کیے، لیکن اب وہ مزید ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ تعلیم، صحت اور اسپورٹس سمیت ہر شعبے میں صلاحیتیں موجود ہیں، اصل مسئلہ مواقع کی کمی ہے جسے دور کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے پر بار بار تجربات کے باعث بے امنی اور مسائل نے جنم لیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے لیے کسی کے در پر نہیں جائیں گے، تاہم صوبے کے مفاد کے لیے ہر کسی کے ساتھ بات چیت کرنے کو تیار ہیں، چاہے ذاتی اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ وفاق نے خیبر پختونخوا کے چار ہزار ارب روپے سے زائد روک رکھے ہیں اور وہ عوام کے تعاون سے یہ حق لے کر رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جامعات میں بے روزگار نوجوان تیار ہو رہے ہیں، مگر حکومت کی کوشش ہے کہ نوجوان تعلیم کے بعد روزگار سے محروم نہ رہیں اور سب مل کر پاکستان کو ایک عظیم ملک بنائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل خیبر پختونخوا
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔