کوئی کتنا ہی ناپسند ہو، صوبے کے مفاد کیلئے اسکے ساتھ بیٹھوں گا: وزیرِاعلیٰ کے پی سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
وزیرِاعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی—فائل فوٹو
وزیرِاعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاق نے صوبہ خیبر پختون خوا کے 4 ہزار ارب روپے سے زائد روک رکھے ہیں، یہ پیسہ میں عوام کی مدد سے وفاق سے لوں گا۔
پشاور میں انہوں نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب میں کہا ہے کہ خیبر پختون خوا میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، یہاں تعلیم، صحت یا اسپورٹس ہر طرح کا ٹیلنٹ موجود ہے بس یہاں مواقع کے مسائل ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختون خوا کو ہمیشہ تجربہ گاہ بنا دیا گیا، ہر ایک نے اپنا تجربہ کیا، جس کے باعث بے امنی پیدا ہوئی، اب صوبے کو مزید تجربہ گاہ نہیں بننے دوں گا۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے.
وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ میں اپنے لیے کسی کے در پر نہیں جاؤں گا تاہم کوئی مجھے کتنا ہی ناپسند ہو، لیکن اپنے صوبے کے مفاد کے لیے ساتھ بیٹھوں گا۔
انہوں نے کہا کہ جامعات میں بے روزگاروں کی ایک کھیپ تیار کی جا رہی ہے، ملک میں 5 ہزار 300 ارب روپے کی کرپشن کی گئی، جو کسی کو نظر نہیں آ رہی۔
وزیرِ اعلیٰ نے مزید کہا ہے کہ خیبر پختون خوا کے ساتھ ہمیشہ امتیازی اور سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا، بعض مائنڈ سیٹ کے لوگ نہیں چاہتے کہ کے پی کے لوگ ترقی کریں۔
سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ہمارے نوجوان روزگار کے بغیر نہ ہوں اور ہم نے مل کر پاکستان کو عظیم ملک بنانا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خیبر پختون خوا وزیر اعلی کہا ہے کہ نے کہا سہیل ا
پڑھیں:
نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللّٰہ نے کہا ہے کہ نواز شریف گلگت بلتستان کے الیکشن کمیشن سے این او سی لیکر وہاں گئے تھے، کوئی حکومتی وزیر گلگت بلتستان نہیں گیا نہ کسی نے وہاں مہم چلائی۔
پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر خان گلگت بلتستان میں جلسے کر رہے ہیں، میٹنگز کر رہے ہیں انہیں تو کوئی نہیں روک رہا۔
رانا ثنا نے کہا کہ اگر بیرسٹر گوہر خان اجازت لیکر جا سکتے ہیں تو سلمان اکرام راجا کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کا کوئی اُمیدوار مقابلے میں ہے ہی نہیں، وہاں صاف، شفاف اور کریڈیبل انتخابات ہونگے۔