لاہور: مین ہول میں گرکر ماں، بیٹی کے جاں بحق ہونے کا کیس: صلح کی بنیاد پر ملزمان رہا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
ضلع کچہری لاہور میں بھاٹی گیٹ میں ماں بیٹی کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے مقدمے کا تین صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا۔
فیصلے کے مطابق ملزمان پروجیکٹ مینیجر اصغر علی، ہنزلہ سیفٹی انچارج اور احمد نواز سائٹ انچارج کو عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ کنٹریکٹر سلمان یاسین اور عثمان یاسین کو بھی پولیس حراست میں پیش کیا گیا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ متوفی سعدیہ ساجد کے باپ اور مقدمہ مدعی ساجد حسین نے اپنا بیان قلمبند کرایا جبکہ متوفی سعدیہ ساجد کے شوہر اور ردا فاطمہ کے باپ غلام مرتضیٰ نے بھی بیان ریکارڈ کرایا۔ مدعی ساجد حسین نے بیان دیا کہ وہ بھاٹی گیٹ تھانے میں درج مقدمے کے مدعی ہیں، متوفی سعدیہ ساجد ان کی بیٹی اور ردا فاطمہ نواسی تھی۔
مدعی کے مطابق ملزمان سلمان یاسین اور عثمان یاسین نے انہیں اور ان کے داماد کو معاوضہ دیا، ان کے ملازمین کی جانب سے جو غفلت برتی گئی اس پر اللہ کی رضا کے لیے انہوں نے تمام ملزمان کو معاف کر دیا ہے۔
مدعی نے عدالت کو بتایا کہ انہیں ملزمان کے ڈسچارج کرنے، ضمانت دینے یا بری کرنے پر کوئی اعتراض نہیں اور ان کا بیان بغیر کسی دباؤ اور آزاد مرضی سے دیا گیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ متوفی سعدیہ ساجد کے شوہر اور ردا فاطمہ کے باپ نے بھی بیان دیا کہ ملزمان پر ان کی بیوی اور بیٹی کے قتل بالسبب کا الزام ہے، تاہم ملزمان نے انہیں اور ان کے سسر کو دیت کی رقم دے دی ہے اور اللہ کی رضا کے لیے انہوں نے بھی ملزمان کو معاف کر دیا ہے۔
انہوں نے عدالت سے ملزمان کو ڈسچارج، بری یا ضمانت دینے پر کوئی اعتراض نہ ہونے کا بیان دیا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمہ مدعی اور متوفی کے شوہر کا بیان انتہائی اہم ہے تاہم انہیں دی گئی رقم دیت کے برابر نہیں ہے، اس لیے ملزمان کو اس مقدمے سے ڈسچارج نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم مدعی اور متوفی کے شوہر کے بیانات اور بیانِ حلفی ملزمان کو معاف کرنے کے ہیں اور مدعی ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتا۔
عدالت نے تمام ملزمان کو پچاس پچاس ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا، گرفتار پانچ ملزمان کو صلح کی بنیاد پر رہا کرنے کا بھی حکم جاری کیا گیا۔ مدعی نے کہا کہ وہ ملزمان کے خلاف مزید کارروائی نہیں کرنا چاہتے۔ تھانہ بھاٹی گیٹ پولیس نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: متوفی سعدیہ ساجد ملزمان کو کے شوہر
پڑھیں:
لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
پنجاب میں بارشوں کے بعد لاہور کے ڈی ایچ اے میں بھی گھٹنوں گھٹنوں پانی کھڑا ہوگیا۔ رابی پیرزادہ نے بھی اپنے گھر کے قریب کھڑے پانی کی ویڈیو بناتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے شکوہ کر ڈالا۔
رابی پیرزادہ نے اپنے فیس بک پیج پر بارش کے بعد کھڑے ہوئے پانی کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس کا کیپشن ’’بارش کے بعد لاہور کی صورت حال اور مریم نواز کا ستھرا پنجاب‘‘ دیا ہے۔ اور ویڈیو پر لکھا ہے ’’مریم نواز صاحبہ، دیکھیں لاہور کے ساتھ کیا ہورہا ہے‘‘۔
رابی پیرزادہ نے وزیراعلیٰ پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’مریم نواز صاحبہ! یہ میں اپنے گھر میں کھڑی ہوں، جو کہ لاہور کے مہنگے ترین علاقے میں آتا ہے، یہ ڈی ایچ اے فیز ون ہے۔ میرے آفس ، میرے اسکول کے اندر بہت نقصان ہوا ہے۔ وہ شعیب صاحب جن سے آپ ساری انفارمیشن لیتی ہیں وہ پتا نہیں کس علاقے میں رہتے ہیں۔ ڈی ایچ اے کا حال بہت خراب ہے۔ مجھے نہیں پتا وہ 960 گاڑیاں کہاں کام کررہی ہیں۔‘‘
https://www.facebook.com/RabiPirzadaMusic/videos/%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%B4-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%B9%D8%AF-%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA-%D8%AD%D8%A7%D9%84-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%85%D8%B1%DB%8C%D9%85-%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B2-%DA%A9%D8%A7-%D8%B3%D8%AA%DA%BE%D8%B1%D8%A7-%D9%BE%D9%86%D8%AC%D8%A7%D8%A8lahore-rain-suthrapunj/1344354571218376/رابی پیرزادہ نے بارش کے بعد علاقے کی زبوں حالی کا شکوہ کیا۔ بعد ازاں ویڈیو کے کمنٹس میں لکھا ’’یہ ویڈیو ڈی ایچ اے میں ضرور ریکارڈ ہوئی ہے، مگر بارش کے بعد تقریباً پورے لاہور کا یہی حال ہے۔ اس ویڈیو کا مقصد کسی مخصوص علاقے یا ادارے پر تنقید کرنا نہیں، بلکہ اربابِ اختیار تک عوام کی مشکلات پہنچانا ہے تاکہ بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔‘‘
رابی پیرزادہ کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ تاہم کئی صارفین نے کمنٹ کیا کہ شدید بارش کے بعد پانی کا کھڑا ہونا عام بات ہے، جو کہ فوری نہیں نکالا جاسکتا۔ لیکن چند گھنٹوں بعد پانی کی نکاسی کردی گئی۔