ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سری لنکن کو دھچکا، ہسارانگا ہیمسٹرنگ انجری کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کولمبو: سری لنکن کرکٹ ٹیم کو آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے ایک اہم نقصان اٹھانا پڑا ہے، اسٹار اسپنر اور کلیدی بولر ونندو ہسارانگا ہیمسٹرنگ انجری کے باعث ایونٹ سے باہر ہو گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ہسارانگا کو یہ چوٹ اتوار کو کولمبو میں آئرلینڈ کے خلاف کھیلے گئے میچ کے دوران لاحق ہوئی تھی، جس کے بعد سری لنکن کرکٹ بورڈ نے فوری طور پر ان کی طبی جانچ کی اور فیصلہ کیا کہ وہ مزید میچز کھیلنے کے قابل نہیں ہیں۔
ہسارانگا کی غیر موجودگی سے سری لنکن بولنگ لائن اپ میں خلا پیدا ہو گیا ہے، جس کی تلافی کے لیے بولنگ آل راؤنڈر دُشان ہمانتھا کو اسکواڈ میں شامل کرنے کا امکان زیرِ غور ہے۔
واضح رہے کہ اتوار کو سری لنکا نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اپنے افتتاحی میچ میں آئرلینڈ کو 20 رنز سے شکست دے کر شاندار آغاز کیا تھا، جس میں ہسارانگا کی بولنگ کا کلیدی کردار تھا۔
ان کی غیر موجودگی اب ٹیم کے لیے چیلنج کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر آئندہ میچز میں اسپن اور آف اسپن کے متوازن امتزاج کے حوالے سے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہسارانگا کی جگہ آنے والا کھلاڑی ٹیم کی بولنگ اور فیلڈنگ میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔ سری لنکن کرکٹ بورڈ کے مطابق ہسارانگا کی صحت اور بازیابی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، اور وہ جلد ہی مکمل طور پر صحتمند ہونے کے بعد دوبارہ کھیلنے کے قابل ہوں گے۔
یہ تبدیلی نہ صرف سری لنکا کے ایونٹ میں کارکردگی پر اثر ڈال سکتی ہے بلکہ گروپ مرحلے کے سخت مقابلوں میں ٹیم کے توازن اور حکمت عملی کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہسارانگا کی کے لیے
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔