سعودی عرب میں ورلڈ ڈیفنس شو 2026، پاک فضائیہ کے چرچے
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
سعودی عرب (ویب ڈیسک)ورلڈ ڈیفنس شو 2026 میں مستقبل کی دفاعی حربی تیاریوں اورمہارتوں کی نمائش میں پاک فضائیہ کی پروقار شرکت کی،سینکڑوں میل دور اور نظروں سے اوجھل اہداف کو نشانہ بنانے سمیت مثالی صلاحیتوں کے حامل جے ایف سیونٹین تھنڈر اور سپر مشاق تربیتی تیارے سب کی توجہ کا مرکز ہیں۔
ترجمان پاک فضائیہ کی جانب سےجاری بیان کےمطابق ورلڈ ڈیفنس شو 2026 دفاع اورسلامتی کے شعبے میں ایک ممتاز عالمی پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس نمائش میں پاک فضائیہ کی شرکت نے ایرواسپیس جدت، آپریشنل قابلیت اور قابلِ اعتماد دفاعی معاملات کے ابھرتے ہوئے مرکز کے طور پر پاکستان کی عالمی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا ہے۔
ورلڈ ڈیفنس شو 2026 میں شرکت پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی مقامی ایرواسپیس صنعت اور پی اے ایف کی آزمودہ عملی صلاحیتوں کی عکاس ہے۔
پاکستان ایئرفورس کی مہارت بے مثال،بصیرت بے عیب تو وار تباہ کن،شو میں پاکستان کی شرکت ایرو اسپیس جدت اور آپریشنل قابلیت کا ثبوت ہے،جے ایف 17 بلاک 3 بی آنڈ ویژول رینج جنگی صلاحیتوں کا حامل 4.
ورلڈ ڈیفنس شو میں سپر مشاق بیسک ٹرینر ایئرکرافٹ بھی نمائش کیلئے پیش کیا گیا،پی اے ایف کی پائلٹ ٹریننگ مہارت اور انجینئرنگ صلاحیتوں کا شاہکارہے،سپر مشاق طیارہ کم لاگت، آسان مینٹیننس اور اعلیٰ کارکردگی کے باعث عالمی سطح پر مقبول ہے،سپرمشاق طیارے کو بنیادی فلائنگ تربیت کیلئے کئی دوست ممالک استعمال کر رہے ہیں
سعودی عرب ڈیفنس شو دنیا بھر کی دفاعی ٹیکنالوجی اور جدید دور میں مستقبل کے جنگی منظر ناموں کے ساتھ تجربات ، مہارتوں اور خدمات کے تبادلے کا بھی اہم پلیٹ فارم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔