وفاقی وزیر بجلی و توانائی اویس لغاری۔فوٹو: فائل

وفاقی وزیر بجلی و توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ سولر پر بجلی فی یونٹ پانچ، چھ روپے میں بن رہی ہے۔ 27 روپے پر نیٹ میٹرنگ کو دینا کیا باقی صارفین کے ساتھ انصاف ہے؟

سینیٹ اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ نیشنل گرڈ پر 3 کروڑ 35 لاکھ بجلی صارفین ہیں، ان میں سے 4 لاکھ 66 ہزار نیٹ میٹرنگ پر ہیں۔

یونٹ کے بدلے یونٹ کی فراہمی ختم، نیپرا کے نئے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز جاری

نئی ریگولیشنز کے تحت نیٹ بلنگ کا نظام متعارف کروادیا گیا۔ بلنگ سائیکل کے اختتام پر بلنگ نظام کے تحت بل جاری ہوگا: نوٹیفکیشن

اویس لغاری نے کہا کہ ریگولیٹر نے کانٹریکٹ کی ایک بھی شق کو واپس نہیں لیا جو صارف کے ساتھ کیا گیا، کسی صارف سے 20 سال کا کانٹریکٹ نہیں ہوا، کانٹریکٹ 7 سال کا تھا۔ نیٹ میٹرنگ اور بلنگ کا فرق کانٹریکٹ میں نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے وعدہ کیا 2030 تک بجلی کا 60 فیصد حصہ کلین انرجی پر مشتمل ہوگا، اس وقت ہم 55 فیصد کلین انرجی حاصل کر چکے ہیں۔ 2035 تک 90 فیصد کلین انرجی ہوگی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ انرجی سیکٹر میں فرنس آئل کا استعمال ختم ہوگیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے آئی پی پیز کے کانٹریکٹ ریویو کیے۔ ہم نے ایک سال میں بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو بہتر کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: وفاقی وزیر اویس لغاری نیٹ میٹرنگ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت