اس وقت امتحان عدالتی نظام کا ہے، ججوں کو ہمت کرنی چاہیے، علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ ہم ڈھائی سال سے غیریقینی صورت حال میں ہیں، اس وقت امتحان عدالتی نظام کا ہے اور ججوں کو اب ہمت کرنی چاہیے کیونکہ عدالتی نظام ختم ہوچکا ہے۔
اڈیالہ جیل کے قریب فیکٹری ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے، ججوں کو اب ہمت کرنی چاہیے کیونکہ عدالتی نظام ختم ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سلمان صفدر نہ کوئی پیغام دیں گے اور نہ میڈیا ٹاک کریں گے، وہ کل سپریم کورٹ کو ملاقات اور حالات سے آگاہ کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، سب کی نظریں ان پر تھیں، بانی پی ٹی آئی کا حق ہے ان کو انصاف ملے۔
علیمہ خان نے کہا کہ چیف جسٹس نے ہمت کی ہے اور انہوں نے ایک وکیل کو ملاقات کی اجازت دی ہے، اب دیکھنا ہے جیل انتظامیہ بیرسٹر سلمان صفدر کو کیا کہتی ہے، وہ عدالت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی کی بہن نے کہا کہ ہم ڈھائی سال سے غیر یقینی صورت حال میں ہیں، ہم عدالتوں سے صرف انصاف مانگ رہے ہیں، اس وقت امتحان عدالتی نظام کا ہے، اب دیکھنا یہ ہے چیف جسٹس کے احکامات پر کتنا عمل درآمد ہوتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عدالتی نظام علیمہ خان نے کہا کہ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔