Islam Times:
2026-07-24@02:14:08 GMT

ایران کی نظر میں علاقائی جنگ کا تصور اور اس کے پہلو

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT

ایران کی نظر میں علاقائی جنگ کا تصور اور اس کے پہلو

اسلام ٹائمز: اگر اس موقف کا جائزہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوجی ڈاکٹرائن کے تناظر میں لیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ تہران "ایک کثیر جہتی جنگ" کا ماڈل اپنانا چاہتا ہے۔ ایسا ماڈل جس کا مقصد بیک وقت متعدد آپریشنل میدانوں میں تنازعہ کو بڑھا کر دشمن کی طاقت کو کمزور کرنا ہے۔ یوں کسی بھی جارحیت کے خلاف ایران کا ممکنہ ردعمل صرف ایک محاذ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک ہائبرڈ شکل اختیار کرے گا جس میں فضائی، بحری، زمینی اور سائبر صلاحیتیں شامل ہوں گی۔ اس حکمت عملی کا مقصد جنگ کے لیے ایک پیچیدہ ماحول پیدا کرنا اور دشمن سے جنگ کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کی صلاحیت چھین لینا ہے۔ فضائیہ پہلو سے ایران نے گزشتہ چند عشروں کے دوران بیلسٹک اور کروز میزائلوں نیز طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کی ایک بڑی کھیپ تیار کر لی ہے۔ تحریر: رضا دہقانی
 
کچھ ہی دن پہلے اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے امریکی صدر کے دھمکی آمیز بیانات اور رویے پر واضح اور دوٹوک ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فرمایا تھا: "(ایران کے خلاف) شروع ہونے والی کوئی بھی جنگ ایک علاقائی جنگ میں تبدیل ہو جائے گی۔" ولی امر مسلمین جہان کا یہ بیان نہ تو میڈیا کی حد تک ایک دھمکی تھی اور نہ ہی محض سیاسی بیان تھا بلکہ یہ ایک ایسا اسٹریٹجک موقف ہے جو ممکنہ تصادم کی عسکری اور سیاسی نوعیت، اس کی جغرافیائی وسعت اور اس میں بروئے کار آپریشنل ٹولز کے مکمل علم پر مبنی ہے۔ لہذا اس بیان کو ایران مخالف دھڑوں کی پروپیگنڈہ مہم سے ہٹ کر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایسے دھڑے جنہوں نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ہمیشہ سے ایران کے موقف کو مسخ کر کے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
 
رہبر معظم انقلاب کے اس بیان کا مقصد ہر گز ایران کی جانب سے خطے کے ممالک پر حملہ کرنا نہیں ہے بلکہ ایران کی اسٹریٹجک اور فوجی منطق کی بنیاد پر اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ کی صورت میں تنازعہ کا جغرافیہ صرف ایران کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا اور وہ ان تمام علاقوں تک پھیل جائے گا جہاں جہاں امریکی مفادات اور فوجی اڈے موجود ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کا دفاعی نظریہ "جامع ڈیٹرنس" کے اصول پر مبنی ہے، ایک ایسا اصول جو اس مفروضے پر استوار ہے کہ ایران پر کسی قسم کی جارحیت، محدود اور الگ تھلگ باقی نہیں رہے گی اور جارح کے زیر اثر اہم علاقے بھی میدان جنگ کا حصہ بن جائیں گے۔ اس تناظر میں ممکنہ شروع ہونے والی جنگ کو "علاقائی جنگ" کہنا ایک خاص فوجی نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔
 
ایسا فوجی نقطہ نظر جس کی بنیاد اس مفروضے پر ہے کہ امریکہ کی آپریشنل طاقت کی بنیاد خطے کے مختلف ممالک میں موجود اس کے فوجی اڈوں، لاجسٹک سہولیات اور بحری اور فضائی انفرااسٹرکچر کے وسیع نیٹ ورک پر استوار ہے۔ یہ فوجی اڈے، امریکہ کی فوجی طاقت کا اٹوٹ انگ ہیں اور جنگ کی صورت میں قدرتی طور پر وہ بھی ایران کے فوجی اہداف میں شامل ہوں گے۔ توجہ رہے کہ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ خطے کے جن ممالک میں امریکہ کے فوجی اڈے یا اسٹریٹجک فوجی اثاثے موجود ہیں ان ممالک کو وسیع فوجی حملے کا نشانہ بنایا جائے گا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک میں امریکہ کی فوجی تنصیبات اور اڈے، جائز فوجی ہدف میں تبدیل ہو جائیں گے۔ یہاں سے کسی مالک کو نشانہ بنانے اور اس میں واقع غیر ملکی فوجی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے میں بنیادی فرق واضح ہو جاتا ہے۔
 
ایک کثیر جہتی ردعمل
اگر اس موقف کا جائزہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوجی ڈاکٹرائن کے تناظر میں لیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ تہران "ایک کثیر جہتی جنگ" کا ماڈل اپنانا چاہتا ہے۔ ایسا ماڈل جس کا مقصد بیک وقت متعدد آپریشنل میدانوں میں تنازعہ کو بڑھا کر دشمن کی طاقت کو کمزور کرنا ہے۔ یوں کسی بھی جارحیت کے خلاف ایران کا ممکنہ ردعمل صرف ایک محاذ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک ہائبرڈ شکل اختیار کرے گا جس میں فضائی، بحری، زمینی اور سائبر صلاحیتیں شامل ہوں گی۔ اس حکمت عملی کا مقصد جنگ کے لیے ایک پیچیدہ ماحول پیدا کرنا اور دشمن سے جنگ کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کی صلاحیت چھین لینا ہے۔ فضائیہ پہلو سے ایران نے گزشتہ چند عشروں کے دوران بیلسٹک اور کروز میزائلوں نیز طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کی ایک بڑی کھیپ تیار کر لی ہے۔
 
بحریہ کے پہلو سے ایران، خلیج فارس، بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز میں "دشمن کی سمندر میں آزادانہ نقل و حرکت بند کر دینے" کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس میں تیز رو جنگی کشتیوں، بحری بارودی سرنگوں، ساحل سے سمندر تک مار کرنے والے میزائلوں، چھوٹی آبدوزوں اور بحری ڈرونز کا استعمال شامل ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل پر عالمی معیشت کے انحصار کے پیش نظر یہ جہت خاص طور پر اہم ہے۔ اس طرح کہ اس خطے میں فوجی کشیدگی میں اضافے کے وسیع تزویراتی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ زمینی جہت میں بھی ایران کے پاس روایتی اور غیر متناسب زمینی افواج کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے جو نقل و حرکت اور تیز رفتار ردعمل پر انحصار کرتا ہے۔
 
علاقائی جنگ اور اسلامی مزاحمتی بلاک
خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کے حوالے سے ایران کی حکمت عملی "آپریشنل آزادی" کے اصول پر مبنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ کی صورت میں اسلامی مزاحمتی گروہ روایتی انداز میں ایک مشترکہ کمانڈ سنٹر یا کنٹرول روم کے ذریعے عمل نہیں کریں گے بلکہ ان میں سے ہر گروہ "اسٹریٹجک کوآرڈینیشن" کے طے شدہ فریم ورک میں رہتے ہوئے خودمختار حیثیت سے اپنے فوجی اقدامات اور آپریشنز کی منصوبہ بندی کر کے انہیں عملی جامہ پہنائے گا۔ یوں ہر اسلامی مزاحمتی گروہ کو درپیش مخصوص جنگی اور سیاسی حالات کے مطابق فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔ لہذا ضروری نہیں ہے کہ تناو بڑھنے کی صورت میں تمام اسلامی مزاحمتی گروہ ایک ساتھ اور متحد ہو کر جنگ میں لیں گے بلکہ ہر گروہ اپنے محاذ کے مطابق اپنی شرکت کی سطح اور نوعیت کا تعین کرنے میں آزاد ہو گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسلامی جمہوریہ ایران اسلامی مزاحمتی اس کا مطلب یہ علاقائی جنگ کی صورت میں حکمت عملی نہیں رہے ایران کے ایران کی سے ایران کی فوجی کا مقصد اور اس

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی