Islam Times:
2026-06-02@22:37:26 GMT

ایران کی نظر میں علاقائی جنگ کا تصور اور اس کے پہلو

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT

ایران کی نظر میں علاقائی جنگ کا تصور اور اس کے پہلو

اسلام ٹائمز: اگر اس موقف کا جائزہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوجی ڈاکٹرائن کے تناظر میں لیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ تہران "ایک کثیر جہتی جنگ" کا ماڈل اپنانا چاہتا ہے۔ ایسا ماڈل جس کا مقصد بیک وقت متعدد آپریشنل میدانوں میں تنازعہ کو بڑھا کر دشمن کی طاقت کو کمزور کرنا ہے۔ یوں کسی بھی جارحیت کے خلاف ایران کا ممکنہ ردعمل صرف ایک محاذ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک ہائبرڈ شکل اختیار کرے گا جس میں فضائی، بحری، زمینی اور سائبر صلاحیتیں شامل ہوں گی۔ اس حکمت عملی کا مقصد جنگ کے لیے ایک پیچیدہ ماحول پیدا کرنا اور دشمن سے جنگ کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کی صلاحیت چھین لینا ہے۔ فضائیہ پہلو سے ایران نے گزشتہ چند عشروں کے دوران بیلسٹک اور کروز میزائلوں نیز طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کی ایک بڑی کھیپ تیار کر لی ہے۔ تحریر: رضا دہقانی
 
کچھ ہی دن پہلے اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے امریکی صدر کے دھمکی آمیز بیانات اور رویے پر واضح اور دوٹوک ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فرمایا تھا: "(ایران کے خلاف) شروع ہونے والی کوئی بھی جنگ ایک علاقائی جنگ میں تبدیل ہو جائے گی۔" ولی امر مسلمین جہان کا یہ بیان نہ تو میڈیا کی حد تک ایک دھمکی تھی اور نہ ہی محض سیاسی بیان تھا بلکہ یہ ایک ایسا اسٹریٹجک موقف ہے جو ممکنہ تصادم کی عسکری اور سیاسی نوعیت، اس کی جغرافیائی وسعت اور اس میں بروئے کار آپریشنل ٹولز کے مکمل علم پر مبنی ہے۔ لہذا اس بیان کو ایران مخالف دھڑوں کی پروپیگنڈہ مہم سے ہٹ کر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایسے دھڑے جنہوں نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ہمیشہ سے ایران کے موقف کو مسخ کر کے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
 
رہبر معظم انقلاب کے اس بیان کا مقصد ہر گز ایران کی جانب سے خطے کے ممالک پر حملہ کرنا نہیں ہے بلکہ ایران کی اسٹریٹجک اور فوجی منطق کی بنیاد پر اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ کی صورت میں تنازعہ کا جغرافیہ صرف ایران کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا اور وہ ان تمام علاقوں تک پھیل جائے گا جہاں جہاں امریکی مفادات اور فوجی اڈے موجود ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کا دفاعی نظریہ "جامع ڈیٹرنس" کے اصول پر مبنی ہے، ایک ایسا اصول جو اس مفروضے پر استوار ہے کہ ایران پر کسی قسم کی جارحیت، محدود اور الگ تھلگ باقی نہیں رہے گی اور جارح کے زیر اثر اہم علاقے بھی میدان جنگ کا حصہ بن جائیں گے۔ اس تناظر میں ممکنہ شروع ہونے والی جنگ کو "علاقائی جنگ" کہنا ایک خاص فوجی نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔
 
ایسا فوجی نقطہ نظر جس کی بنیاد اس مفروضے پر ہے کہ امریکہ کی آپریشنل طاقت کی بنیاد خطے کے مختلف ممالک میں موجود اس کے فوجی اڈوں، لاجسٹک سہولیات اور بحری اور فضائی انفرااسٹرکچر کے وسیع نیٹ ورک پر استوار ہے۔ یہ فوجی اڈے، امریکہ کی فوجی طاقت کا اٹوٹ انگ ہیں اور جنگ کی صورت میں قدرتی طور پر وہ بھی ایران کے فوجی اہداف میں شامل ہوں گے۔ توجہ رہے کہ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ خطے کے جن ممالک میں امریکہ کے فوجی اڈے یا اسٹریٹجک فوجی اثاثے موجود ہیں ان ممالک کو وسیع فوجی حملے کا نشانہ بنایا جائے گا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک میں امریکہ کی فوجی تنصیبات اور اڈے، جائز فوجی ہدف میں تبدیل ہو جائیں گے۔ یہاں سے کسی مالک کو نشانہ بنانے اور اس میں واقع غیر ملکی فوجی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے میں بنیادی فرق واضح ہو جاتا ہے۔
 
ایک کثیر جہتی ردعمل
اگر اس موقف کا جائزہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوجی ڈاکٹرائن کے تناظر میں لیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ تہران "ایک کثیر جہتی جنگ" کا ماڈل اپنانا چاہتا ہے۔ ایسا ماڈل جس کا مقصد بیک وقت متعدد آپریشنل میدانوں میں تنازعہ کو بڑھا کر دشمن کی طاقت کو کمزور کرنا ہے۔ یوں کسی بھی جارحیت کے خلاف ایران کا ممکنہ ردعمل صرف ایک محاذ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک ہائبرڈ شکل اختیار کرے گا جس میں فضائی، بحری، زمینی اور سائبر صلاحیتیں شامل ہوں گی۔ اس حکمت عملی کا مقصد جنگ کے لیے ایک پیچیدہ ماحول پیدا کرنا اور دشمن سے جنگ کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کی صلاحیت چھین لینا ہے۔ فضائیہ پہلو سے ایران نے گزشتہ چند عشروں کے دوران بیلسٹک اور کروز میزائلوں نیز طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کی ایک بڑی کھیپ تیار کر لی ہے۔
 
بحریہ کے پہلو سے ایران، خلیج فارس، بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز میں "دشمن کی سمندر میں آزادانہ نقل و حرکت بند کر دینے" کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس میں تیز رو جنگی کشتیوں، بحری بارودی سرنگوں، ساحل سے سمندر تک مار کرنے والے میزائلوں، چھوٹی آبدوزوں اور بحری ڈرونز کا استعمال شامل ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل پر عالمی معیشت کے انحصار کے پیش نظر یہ جہت خاص طور پر اہم ہے۔ اس طرح کہ اس خطے میں فوجی کشیدگی میں اضافے کے وسیع تزویراتی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ زمینی جہت میں بھی ایران کے پاس روایتی اور غیر متناسب زمینی افواج کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے جو نقل و حرکت اور تیز رفتار ردعمل پر انحصار کرتا ہے۔
 
علاقائی جنگ اور اسلامی مزاحمتی بلاک
خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کے حوالے سے ایران کی حکمت عملی "آپریشنل آزادی" کے اصول پر مبنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ کی صورت میں اسلامی مزاحمتی گروہ روایتی انداز میں ایک مشترکہ کمانڈ سنٹر یا کنٹرول روم کے ذریعے عمل نہیں کریں گے بلکہ ان میں سے ہر گروہ "اسٹریٹجک کوآرڈینیشن" کے طے شدہ فریم ورک میں رہتے ہوئے خودمختار حیثیت سے اپنے فوجی اقدامات اور آپریشنز کی منصوبہ بندی کر کے انہیں عملی جامہ پہنائے گا۔ یوں ہر اسلامی مزاحمتی گروہ کو درپیش مخصوص جنگی اور سیاسی حالات کے مطابق فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔ لہذا ضروری نہیں ہے کہ تناو بڑھنے کی صورت میں تمام اسلامی مزاحمتی گروہ ایک ساتھ اور متحد ہو کر جنگ میں لیں گے بلکہ ہر گروہ اپنے محاذ کے مطابق اپنی شرکت کی سطح اور نوعیت کا تعین کرنے میں آزاد ہو گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسلامی جمہوریہ ایران اسلامی مزاحمتی اس کا مطلب یہ علاقائی جنگ کی صورت میں حکمت عملی نہیں رہے ایران کے ایران کی سے ایران کی فوجی کا مقصد اور اس

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان