سعودی کابینہ نے اردن اور ترکی کے ساتھ جوہری تعاون پر مذاکرات کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
سعودی کابینہ نے اردن اور ترکی کے ساتھ پرامن جوہری اور ایٹمی توانائی کے شعبے میں تعاون کے لیے مذاکرات اور مسودہ معاہدوں پر دستخط کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی شہزادہ ولیم کا سعودی عرب کا دورہ، فٹبالرز اور گیمرز سے ملاقات
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق مذاکرات کے حوالے سے وزیرِ توانائی کو باقاعدہ اختیار دے دیا گیا ہے۔
منگل کے روز ہونے والے کابینہ اجلاس میں قطر کے ساتھ تیز رفتار الیکٹرک ریل منصوبے کے معاہدے، بوسنیا و ہرزیگووینا اور منگولیا کے ساتھ ویزا استثنیٰ کے معاہدوں، ازبکستان کے ساتھ ثقافتی تعاون کی مفاہمتی یادداشت اور شام کے ساتھ صحت کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کی بھی منظوری دی گئی۔
مزید پڑھیے: سعودی عرب امریکا کے بعد بوئنگ کا بڑا شراکت دار، عالمی دفاعی نمائش میں انکشاف
یہ اجلاس شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلیفونک گفتگو، ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ساتھ روابط کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ان روابط کو دوطرفہ تعلقات کے استحکام کا مظہر قرار دیا گیا۔
کابینہ اجلاس میں علاقائی سلامتی اور استحکام کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔
مزید پڑھیں: حج کے لیے ویزوں کا اجرا کب شروع ہوگا؟ سعودی عرب نے اعلان کردیا
علاوہ ازیں غزہ میں جنگ بندی اور داعش کے خاتمے کے لیے قائم عالمی اتحاد کے لیے سعودی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سعودی عرب سعودی کابینہ سعودیہ کے اردن اور ترکی کے ساتھ جوہری تعاون پر مذاکرات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سعودی کابینہ کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔