بیرسٹر علی ظفر نے نیپرا اعلان کو بم قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
فائل فوٹو
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے اعلان کو بم قرار دیدیا ہے۔
نیٹ میٹرنگ لائسنسگ پر سینیٹ اجلاس میں بحث کے دوران بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اعلان کے تحت نیپرا عوام سے بجلی 11 روپے فی یونٹ میں خریدے گی لیکن حکومت عوام کو 40 روپے فی یونٹ میں فروخت کردے گی، یہ کہاں کا انصاف ہے؟
پارلیمنٹ کے ایوان بالا (سینیٹ) نے پیکا ایکٹ، کرمنل قوانین، انسداد الیکٹرانک کرائمز اور فیملی کورٹ کے ترامیمی بلز منظور کرلیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ عوام سے وعدہ کیا گیا تھا آپ سولر لگائیں گے تو ہم آپ کو فائدہ دیں گے، ہم نے زور دیا کہ سولر پینل لگائیں، لوگوں نے لاکھوں روپے کے پینلز پر سرمایہ کاری کی۔
بیرسٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ گاؤں میں چھتوں پر سولر پینل لگائے گئے لوگوں نے قرض لے کر سولر پینل لگائے، کچھ ماہ قبل شک ہوا تھا کہ حکومت چاہتی ہے سولر پینل کی پالیسی تبدیل کرے۔
پاکستان پیپلزپارٹی( پی پی پی) کی نائب صدرسینیٹر شیری رحمان نے نئی نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) پالیسی کو توانائی منتقلی کو سست قرار دیدیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر نے جواب دیا کہ ہم ہرگز عوام کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے، حکومت جواب دے گی ہم کچھ نہیں کررہے اور نیپرا آزاد ارادہ ہے جس نے یہ سب کیا ہے۔
پی ٹی آئی سینیٹر نے یہ بھی کہا کہ نیپرا آزاد نہیں ہے، نیپرا وہی پالیسی بناتی ہے جس کی حکومت ہدایت دیتی ہے، آئی پی پیز بے شک بجلی پیدا نہ بھی کرے تو انہیں پیسے دیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ عوام پر بم ہے، نیپرا کے چیئرمین کو سینیٹ میں بلائیں اور اسے جیل بھیجیں، اگر نیپرا نے کوئی فیصلہ کیا اور حکومت کہے ہم بے بس ہیں تو حکومت قانون سازی کر لے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بیرسٹر علی ظفر نے سولر پینل کہا کہ
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔