اجلاس کے شرکاء نے متفقہ طور پر کہا کہ پورا ملک اس سانحے پر غم اور صدمے کی کیفیت میں ہے۔ تمام قائدین نے دہشت گردی کی اس بزدلانہ کارروائی کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی۔ اسلام ٹائمز۔ سانحہ ترلائی کے افسوسناک واقعے کے پس منظر میں ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے اسلام آباد میں موجود قائدین کا ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل پاکستان، لیاقت بلوچ نے کی۔ اجلاس کی میزبانی علامہ شبیر حسین میثمی نے کی اور سید ناصر عباس شیرازی، مفتی گلزار احمد نعیمی، ڈاکٹر علی عباس نقوی، ڈاکٹر ضمیر اختر خان، عبداللہ حمید گل، نصراللہ رندھاوا، طاہر رشید تنولی، مولانا عرفان حسین ،زاہد علی اخوانزادہ اور اسرار احمد نعیمی نے شرکت کی۔ اجلاس کے شرکاء نے متفقہ طور پر کہا کہ پورا ملک اس سانحے پر غم اور صدمے کی کیفیت میں ہے۔ تمام قائدین نے دہشت گردی کی اس بزدلانہ کارروائی کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی ہر شکل اور ہر نوعیت قابلِ مذمت ہے اور دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا اصل مقصد ملک میں فساد پھیلانا، فرقہ واریت کو ہوا دینا، قومی عدم استحکام پیدا کرنا اور پاکستان کی ایٹمی و نظریاتی حیثیت کو کمزور کرنا ہے۔

اجلاس میں اس امر پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ انڈیا، اسرائیل اور امریکہ کا مشترکہ ایجنڈا مسلمانوں کو نقصان پہنچانا، امتِ مسلمہ کے اتحاد کو کمزور کرنا اور معاشرے میں نفرت و فساد پھیلانا ہے۔ شرکاء نے کہا کہ سانحۂ ترلائی کے بعد عوام کا حوصلہ افزا ردِعمل، شہداء کی تدفین اور زخمیوں کو بروقت طبی سہولیات کی فراہمی میں نہایت اہم ثابت ہوا، جو انتہائی قابلِ تحسین ہے۔ اجلاس میں اس سوال پر بھی غور کیا گیا کہ دلخراش سانحہ ترلائی کے وقت وفاقی دارالحکومت میں مختلف بین الاقوامی صدور کے دورے جاری تھے اور سکیورٹی کے سخت انتظامات موجود تھے، اس کے باوجود ایسا افسوسناک واقعہ کیسے پیش آیا؟ اس حوالے سے پوری قوم واضح جواب کی منتظر ہے۔

اجلاس نے مطالبہ کیا کہ شہداء اور زخمیوں کے لیے بروقت، مؤثر اور جامع انتظامات یقینی بنائے جائیں۔ شرکاء نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ دارالحکومت ہونے کے باوجود ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ وسائل دستیاب نہیں تھے اور اس سانحے کے حوالے سے انتظامیہ کا رویہ بھی انتہائی افسوسناک رہا۔
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد کو مزید مضبوط کیا جائے گا اور پاکستان کے امن، استحکام اور نظریاتی تشخص کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر شہدا کے بلندی درجات کے لیے دعا کی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اجلاس کے شرکاء نے کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار