امریکا: تربیتی طیارہ مصروف شاہراہ پر گاڑیوں سے ٹکرا گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا کی ریاست جارجیا میں ایک تربیتی چھوٹا طیارہ ہنگامی لینڈنگ کے دوران مصروف شاہراہ پر کئی گاڑیوں سے ٹکرا گیا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹ میں پولیس کے مطابق حادثہ پیر کے روز جارجیا کے شہر گینزویل میں پیش آیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ سنگل انجن والا تربیتی طیارہ تکنیکی خرابی کا شکار ہو گیا تھا، جس کے بعد پائلٹ نے ہنگامی طور پر سڑک پر لینڈنگ کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق طیارے میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ واپس ہوائی اڈے تک پہنچ سکتا۔
عینی شاہدین اور وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارہ سڑک پر لینڈ کرنے کے بعد متعدد گاڑیوں سے ٹکرا گیا۔ پولیس کے مطابق لینڈنگ کے دوران طیارے کا دایاں بازو ایک گاڑی سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں فیول ٹینک الگ ہو گیا اور طیارہ مزید دو گاڑیوں سے جا ٹکرایا۔
حادثے میں ملوث افراد کو معمولی چوٹیں آئیں، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ واقعے کے بعد متاثرہ شاہراہ کو عارضی طور پر ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا جس سے طویل ٹریفک جام پیدا ہوا۔
نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (این ٹی ایس بی) کے مطابق طیارہ گینزویل کے لی گلمر میموریل ایئرپورٹ سے کینٹن کے چیروکی کاؤنٹی ریجنل ایئرپورٹ جا رہا تھا۔ این ٹی ایس بی کا کہنا ہے کہ روانگی کے کچھ دیر بعد پائلٹ کو انجن میں خرابی کا سامنا ہوا، جس کے بعد حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گاڑیوں سے کے مطابق کے بعد
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔