رمضان المبارک؛ پاکستان میں صدقہ فطر اور فدیہ صوم کا نصاب جاری
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے رواں سال کے لیے صدقہ فطر اور فدیۂ صوم کا نصاب جاری کر دیا ہے۔
رواں سال صدقہ فطر اور فدیۂ صوم کم ازکم 300 روپے فی کس مقرر کیا گیا ہے۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے بتایا کہ گندم کے آٹے کے حساب سے 300 روپے، جو کے حساب سے 1100 روپے صدقہ فطر اور فدیۂ صوم ادا کیا جائے۔
اسی طرح کھجور کے حساب سے 1600 روپے، کشمش کے حساب سے 3800 روپے، منقیٰ کے حساب سے 5400 روپے اور سرکاری آٹے کے حساب سے 200 روپے صدقہ فطر اور فدیۂ صوم ادا کیا جائے۔
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ صدقہ فطر ہر غلام، آزاد، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے مسلمان پر فرض ہے۔ انہوں نے صاحبِ استطاعت افراد کو ہدایت کی کہ وہ گندم پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی مالی حیثیت کے مطابق صدقہ فطر ادا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحقین کی مدد ہو سکے۔
رمضان المبارک: دنیا کے کن ممالک میں روزے سب سے طویل اور کہاں سب سے چھوٹے ہوں گے؟
ملک میں رمضان المبارک سے پہلے ہی مہنگائی نے سر اٹھانا شروع کر دیا
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں کے رہائشی اپنے علاقوں میں اجناس کی قیمتوں کے مطابق صدقہ فطر اور فدیۂ صوم ادا کریں۔
علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے مزید بتایا کہ گندم کے حساب سے 30 روزوں کا فدیہ 9000 روپے، جو کے حساب سے 30 روزوں کا فدیہ 33000 روپے، کھجور کے حساب سے 30 روزوں کا فدیہ 48000 روپے، کشمش کے حساب سے 30 روزوں کا فدیہ 114000 روپے اور منقیٰ کے حساب سے 30 روزوں کا فدیہ 162000 روپے ادا کرنا ہوگا۔ سرکاری آٹے کے حساب سے 30 روزوں کا فدیہ 6000 روپے بنتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جان بوجھ کر روزہ توڑنے کا کفارہ مسلسل 60 روزے رکھنا یا 60 مساکین کو 2 وقت کا کھانا کھلانا ہے۔
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کے مطابق گندم کا نصاب وزن کے لحاظ سے نصف صاع یعنی احتیاطاً 2 کلوگرام ہے جب کہ جو، کھجور اور منقیٰ کا نصاب ایک صاع یعنی احتیاطاً 4 کلوگرام بنتا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کے حساب سے 30 روزوں کا فدیہ صدقہ فطر اور فدیہ کا نصاب
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک