سندھ رائٹ ٹو انفارمیشن سے متعلق آگاہی سیشنز کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) سندھ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ سے متعلق آگاہی اور حساسیت پیدا کرنے کے لیے گورنمنٹ زبیدہ گرلز کالج اور شاہ لطیف گرلز کالج لطیف آباد میں خصوصی سیشنز کا انعقاد کیا گیا۔ سیشنز کا اہتمام ایڈووکیٹ رافعہ بنگش ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایسوسی ایشن فار بیٹرمنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ آف ہیومن بِینگ (ABAD) اور پیمان کے تعاون سے کیا گیا۔سیشنز کے دوران انفارمیشن آفیسر ثوبیہ سلیم، علی وقاص، سینئر صحافی اشوک شرما اور شیراز بھٹی نے طالبات کو سندھ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کی اہمیت، طریقہ کار اور اس کے عملی استعمال سے آگاہ کرتے بتایا کہ یہ قانون شہریوں کو سرکاری اداروں سے معلومات حاصل کرنے کا آئینی حق دیتا ہے اور اس کے ذریعے عوام اپنے مسائل کے حل اور حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر انداز میں آواز اٹھا سکتے ہیں۔مقررین نے طالبات کو قانون سے فائدہ اٹھانے اور اپنی تعلیمی، سماجی اور شہری ذمہ داریوں کے حوالے سے باشعور کردار ادا کرنے پر زور دیا۔ سیشنز میں طالبات نے بھی سوالات کیے اور اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ رافعہ بنگش کا کہنا تھا کہ ایسے آگاہی پروگرامز کا مقصد نوجوان نسل کو قانونی حقوق سے باخبر کرنا اور انہیں ایک بااختیار اور ذمہ دار شہری بنانا ہے تاکہ وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا کردار ادا کر سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔