data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(کامرس رپورٹر)سینئرنائب صدر فیڈریشن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی)ثاقب فیاض مگوں نے کہا ہے کہ گل پلازہ دلخراش سانحہ کے بعداب اس بات کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ ایک ایسا حفاظتی نظام ہو جوآگ لگنے یا آگ کو پھیلنے نہ دے، کہتے ہی کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے،آگ سے بچائو کے لیے فائرفائٹنگ اصولوں کو اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں قیمتی جانوں کی حفاظت رہے۔ انہوں نے یہ بات گزشتہ روز ایف پی سی سی آئی میں آئل اور گیس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کے زیرانتظام ’’فائر اور سیفٹی‘‘ آگاہی سیمینار میں خطاب کے دوران کہی۔ سیمینار سے نائب صدر ایف پی سی سی آئی آصف سخی،انسٹی ٹیوٹ کے سرپرست اعلیٰ ملک خدا بخش،انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین عمران فاروقی،سید وسیم احمد،شرجیل گوپلانی،شاہد قمر انصاری،فیصل خان،سید محمداصغر اوردیگر نے بھی خطاب کیا۔ آصف سخی نے اپنے خطاب میں کہا کہ گل پلازہ کے بعد فائراینڈ سیفٹی کی اہمیت بہت ضروری ہے،آج کی تمام قومیں اور ممالک اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے اپنے اسٹرکچر اور قیمتی جانوں کی حفاظت کررہے ہیں،وہ تمام راستے جو آگ کے پھیلائو کا سبب بنتے ہیں انہیں بند کرنے کی ضرورت ہے۔ آئل اور گیس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کے سرپرست اعلیٰ ملک خدا بخش نے ملک میں آگ لگنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد فائر اور سیفٹی سہولیات کی آگاہی اور تربیت کی اشد ضرورت ہے، آئل اور گیس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کا قیام بھی اسی مقصد کے لیے کیا گیا تاکہ حفاظتی اقدامات کو اہمیت دی جائے اور گل پلازہ سانحہ کے بعد فائر اور سیفٹی کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر گھر اور اداروں بالخصوص مارکیٹوں اور شاپنگ مراکز میں سیفٹی کی اشد ضرورت ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب اس کی آگاہی دینے کے لیے باقاعدہ اس کا ادارہ ہو۔عمران فاروقی نے کہا کہ ہم نے فائراور سیفٹی کے حوالے سے ڈیفنس میں ٹریننگ شروع کرچکے ہیں،ہمارا مقصدتمام مارکیٹوں کے دکانداروں اور ان کے عملے کو آگ سے بچائو کے لیے ٹریننگ دیں تاہم مارکیٹوں اور صنعتوںکی ایسوسی ایشنزبھی آگے بڑھیں،دکاندار فائر سیفٹی سسٹم کو سمجھنے کی تربیت حاصل کریں، چار سے چھ ہفتوں کا کورس مناسب فیس میں کروایا جاتا ہے،آئل اینڈ گیس ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کا ادارہ مفت تربیت دینے کے لیے بھی تیار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عرشی سینٹرکی مارکیٹ اور فلیٹس جل گئے اوریہ دوبارہ بن بھی گئے مگر سیفٹی کا کوئی نظام نہیں ہے،کمشنر کراچی کے حکم پر توآٹا،سبزی وغیرہ بھی فروخت نہیں ہوتیںتو وہ سیفٹی کا انتظام کیا کریں گے،تمام مارکیٹوں اور صنعتوں میں فائرفائٹرکو بھیبھرتی کیا جائے تاکہ کسی حادثے کی صورت میں قابوپانے کے لیے اقدام ہوسکے۔ٹمبر مرچنٹس گروپ کے سربراہ شرجیل گوپلانی نے کہا کہ لاہور کی ٹمبر مارکیٹ میں ہر دکان میں اسپرینکل سسٹم موجود ہے، کراچی میں ایک دکان پر یہ نظام لگانے کی لاگت تقریباً 9 لاکھ روپے ہے،بارہ سو دکانوں پر اسپرینکل سسٹم لگانے کے لیے اربوں روپے درکار ہوں گے ، تاجر اربوں کا ٹیکس دیتے ہیں سہولیات دینا حکومت کیذمہ داری ہے ۔جیولرز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر حسین قریشی نے کہا کہ معاشی حب میں فائر بچاؤ کا نظام ناکارہ ہے،بین الاقوامی معیار کے مطابق فائر سیفٹی نظام بنایا جائے۔انسٹی ٹیوٹ کے پرنسپل سید وسیم احمدنے کہا کہ کسی بھی آگ کے حادثات پر رپورٹ ہوتی ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ سے لگی،سالانہ درجنوں آگ کے واقعات مارکیٹوں یا فیکٹریوں میں ہوجاتے ہیں جن میں50فیصد سے زائد شارٹ سرکٹ سے ہوتے ہیں جبکہ6فیصد انسانی کوتاہی اور11فیصد کسی کیمیکل کی وجہ سے ہوتے ہیں اس کے باوجود فائر اور سیفٹی کے آلات نہیں لگائے جاتے اور اگر کوئی یہ آلات لگا بھی لے تو انہیں چلانے کی تربیت کسی میں نہیں ہوتی،موجودہ حالات میں تربیت یافتہ فائرفائٹر کی اشد ضرورت ہے۔

کامرس رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گیس ٹریننگ انسٹی فائر اور سیفٹی کی اشد ضرورت انسٹی ٹیوٹ نے کہا کہ ضرورت ہے کے لیے

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی