آگ سے بچائو کیلیے فائرفائٹنگ اصولوں کو اپنانے کی ضرورت ہے، ثاقب فیاض مگوں
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر)سینئرنائب صدر فیڈریشن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی)ثاقب فیاض مگوں نے کہا ہے کہ گل پلازہ دلخراش سانحہ کے بعداب اس بات کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ ایک ایسا حفاظتی نظام ہو جوآگ لگنے یا آگ کو پھیلنے نہ دے، کہتے ہی کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے،آگ سے بچائو کے لیے فائرفائٹنگ اصولوں کو اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں قیمتی جانوں کی حفاظت رہے۔ انہوں نے یہ بات گزشتہ روز ایف پی سی سی آئی میں آئل اور گیس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کے زیرانتظام ’’فائر اور سیفٹی‘‘ آگاہی سیمینار میں خطاب کے دوران کہی۔ سیمینار سے نائب صدر ایف پی سی سی آئی آصف سخی،انسٹی ٹیوٹ کے سرپرست اعلیٰ ملک خدا بخش،انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین عمران فاروقی،سید وسیم احمد،شرجیل گوپلانی،شاہد قمر انصاری،فیصل خان،سید محمداصغر اوردیگر نے بھی خطاب کیا۔ آصف سخی نے اپنے خطاب میں کہا کہ گل پلازہ کے بعد فائراینڈ سیفٹی کی اہمیت بہت ضروری ہے،آج کی تمام قومیں اور ممالک اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے اپنے اسٹرکچر اور قیمتی جانوں کی حفاظت کررہے ہیں،وہ تمام راستے جو آگ کے پھیلائو کا سبب بنتے ہیں انہیں بند کرنے کی ضرورت ہے۔ آئل اور گیس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کے سرپرست اعلیٰ ملک خدا بخش نے ملک میں آگ لگنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد فائر اور سیفٹی سہولیات کی آگاہی اور تربیت کی اشد ضرورت ہے، آئل اور گیس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کا قیام بھی اسی مقصد کے لیے کیا گیا تاکہ حفاظتی اقدامات کو اہمیت دی جائے اور گل پلازہ سانحہ کے بعد فائر اور سیفٹی کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر گھر اور اداروں بالخصوص مارکیٹوں اور شاپنگ مراکز میں سیفٹی کی اشد ضرورت ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب اس کی آگاہی دینے کے لیے باقاعدہ اس کا ادارہ ہو۔عمران فاروقی نے کہا کہ ہم نے فائراور سیفٹی کے حوالے سے ڈیفنس میں ٹریننگ شروع کرچکے ہیں،ہمارا مقصدتمام مارکیٹوں کے دکانداروں اور ان کے عملے کو آگ سے بچائو کے لیے ٹریننگ دیں تاہم مارکیٹوں اور صنعتوںکی ایسوسی ایشنزبھی آگے بڑھیں،دکاندار فائر سیفٹی سسٹم کو سمجھنے کی تربیت حاصل کریں، چار سے چھ ہفتوں کا کورس مناسب فیس میں کروایا جاتا ہے،آئل اینڈ گیس ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کا ادارہ مفت تربیت دینے کے لیے بھی تیار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عرشی سینٹرکی مارکیٹ اور فلیٹس جل گئے اوریہ دوبارہ بن بھی گئے مگر سیفٹی کا کوئی نظام نہیں ہے،کمشنر کراچی کے حکم پر توآٹا،سبزی وغیرہ بھی فروخت نہیں ہوتیںتو وہ سیفٹی کا انتظام کیا کریں گے،تمام مارکیٹوں اور صنعتوں میں فائرفائٹرکو بھیبھرتی کیا جائے تاکہ کسی حادثے کی صورت میں قابوپانے کے لیے اقدام ہوسکے۔ٹمبر مرچنٹس گروپ کے سربراہ شرجیل گوپلانی نے کہا کہ لاہور کی ٹمبر مارکیٹ میں ہر دکان میں اسپرینکل سسٹم موجود ہے، کراچی میں ایک دکان پر یہ نظام لگانے کی لاگت تقریباً 9 لاکھ روپے ہے،بارہ سو دکانوں پر اسپرینکل سسٹم لگانے کے لیے اربوں روپے درکار ہوں گے ، تاجر اربوں کا ٹیکس دیتے ہیں سہولیات دینا حکومت کیذمہ داری ہے ۔جیولرز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر حسین قریشی نے کہا کہ معاشی حب میں فائر بچاؤ کا نظام ناکارہ ہے،بین الاقوامی معیار کے مطابق فائر سیفٹی نظام بنایا جائے۔انسٹی ٹیوٹ کے پرنسپل سید وسیم احمدنے کہا کہ کسی بھی آگ کے حادثات پر رپورٹ ہوتی ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ سے لگی،سالانہ درجنوں آگ کے واقعات مارکیٹوں یا فیکٹریوں میں ہوجاتے ہیں جن میں50فیصد سے زائد شارٹ سرکٹ سے ہوتے ہیں جبکہ6فیصد انسانی کوتاہی اور11فیصد کسی کیمیکل کی وجہ سے ہوتے ہیں اس کے باوجود فائر اور سیفٹی کے آلات نہیں لگائے جاتے اور اگر کوئی یہ آلات لگا بھی لے تو انہیں چلانے کی تربیت کسی میں نہیں ہوتی،موجودہ حالات میں تربیت یافتہ فائرفائٹر کی اشد ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گیس ٹریننگ انسٹی فائر اور سیفٹی کی اشد ضرورت انسٹی ٹیوٹ نے کہا کہ ضرورت ہے کے لیے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔