جیل میں پیسے نہ دینے پر قیدیوںسے زبردستی مشقت لی جاتی ہے، سورھیہ سندھی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260211-8-18
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سینٹرل جیل حیدرآباد سے قومی کارکنان سہیل میرانی، مہران میرانی، فراز چانڈیو، ہالار چانگ، ثاقب سمیت 11قومی کارکنوں کو مبینہ تشدد کے بعد جیل بدر کیے جانے کے خلاف سینٹرل جیل حیدرآباد میں قید قومی کارکن منیر ابڑو، اسحاق بھرگڑی، بلال شر، سنی بھٹی، شبیر نوحانی، رحیم کوسو، اسرار سنجرای سمیت 100 سے زائد قیدیوں نے کالا چکر، سفید چکر اور سیکورٹی وارڈز میں جیل بھتہ واپس کیے جانے کے مطالبے پر گزشتہ تین روز سے تاحال بھوک ہڑتال جاری رکھی ہوئی ہے۔اُدھر ان کی حمایت میں گزشتہ روز بھی جئے سندھ تحریک کے چیئرمین سورھیہ سندھی اور امتیاز میرانی کی قیادت میں حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور کیمپ قائم کیا گیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ جیل کے مرکزی دروازے سے لے کر ملاقات، نئی آمد، پسار اور کچن کے مختلف مدات میں جیل انتظامیہ ماہانہ کروڑوں روپے کماتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جیل مینوئل کے مطابق کچے قیدی سے مشقت نہیں لی جا سکتی، مگر جیل میں نئی آمد اور کچے قیدیوں سے پیسے نہ دینے کی صورت میں زبردستی مشقت لی جاتی ہے۔ مظاہرین کے مطابق جیل کے کھانے کے معیار کو بہتر بنانے کے بجائے جیل انتظامیہ کی سرپرستی میں کینٹین قائم کی گئی ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں روپے کمائے جا رہے ہیں۔مظاہرین نے الزام لگایا کہ جیل میں بااثر قیدیوں کو شراب، چرس، آئس سمیت تمام نشہ آور اشیا فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ جیل کی ماڑی میں ایک مخصوص کمرے میں 50ہزار روپے کے عوض قیدیوں کو خواتین بھی فراہم کی جاتی ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ سینٹرل جیل حیدرآباد کی انتظامیہ کے مبینہ مظالم کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کراچی میں پٹیشن دائر کی جائے گی جبکہ پورے سندھ میں جیل انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے اور جئے سندھ تحریک کی جانب سے سینٹرل جیل حیدرآباد کے سامنے دھرنا بھی دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سینٹرل جیل حیدرآباد کہ جیل
پڑھیں:
دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس دوران دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار میں توسیع کا بڑا فیصلہ ہو گیا، دن کے طویل دورانیے اور شدید گرمی کے پیشِ نظر اب ملک بھر میں دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات نو بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریٹیل کاروبار اور شاپنگ مالز کو رات نو بجے تک جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز کو رات گیارہ بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب، شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات پر یہ ریلیف لاگو نہیں ہوگا اور وہ بدستور رات دس بجے بند کر دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ فارمیسیز، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات اوقاتِ کار کی اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گی۔ اسحاق ڈار کی جانب سے تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے نئی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے بیلجیئم میں پاکستان کے سفیررحیم حیات قریشی کی اہم ملاقات
مزید :