ٹرمپ کا ایران پر دباؤ بڑھانے کا عندیہ، خطے میں دوسرا بحری بیڑہ بھیجنے کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کے تناظر میں سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر مذاکرات کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکے تو امریکا خطے میں اپنی عسکری موجودگی مزید مضبوط کر سکتا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایک امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت کا دوسرا مرحلہ آئندہ ہفتے متوقع ہے اور اس بار حالات ماضی سے مختلف دکھائی دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اب مذاکرات کو سنجیدگی سے لے رہا ہے کیونکہ اسے امریکی فوجی طاقت کا عملی اندازہ ہو چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ماضی میں ایرانی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل تہران سفارتی عمل کو خاطر میں نہیں لایا اور حد سے زیادہ خود اعتمادی کا مظاہرہ کیا، تاہم اس کے بعد اسے نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ مذاکرات ایک نئے تناظر میں ہو رہے ہیں اور امریکا چاہتا ہے کہ مسئلہ سفارتی ذرائع سے حل ہو، لیکن اگر معاہدہ طے نہ پایا تو واشنگٹن کو ’انتہائی سخت قدم‘ اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
امریکی صدر نے عندیہ دیا کہ ایسی صورت میں مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور بحری بیڑہ تعینات کیا جا سکتا ہے تاکہ ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری مکمل رکھی جائے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک اعلیٰ عہدیدار نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ خطے میں دوسرا ائیرکرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ بھیجنے پر غور جاری ہے۔ اس وقت یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کا اسٹرائیک گروپ پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہے، جس میں جدید جنگی طیارے، ٹوماہاک میزائل اور متعدد بحری جہاز شامل ہیں۔
یاد رہے کہ غزہ جنگ کے دوران بھی امریکا نے طویل عرصے تک 2 طیارہ بردار بحری جہاز خطے میں تعینات رکھے تھے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹا جا سکے۔
ٹرمپ کے حالیہ بیان نے ایک بار پھر خطے کی صورتحال کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے اور ماہرین کے مطابق اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ