لاہور کے علاقے مناواں میں ڈمپنگ اسٹیشن سے ماں بیٹے کی لاشیں برآمد، مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور کے علاقے مناواں میں کوڑے کے ڈمپنگ اسٹیشن سے ماں اور بیٹے کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
پولیس کے مطابق دونوں مقتولین کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق ماں اور بیٹے کو گلا دبا کر قتل کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں، جن کی تدفین بھی کر دی گئی ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ پولیس نے شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ مقتولہ کے بھائی کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔ مدعی کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نے اس کی بہن اور بھانجے کو قتل کر کے لاشیں ڈمپنگ اسٹیشن پر پھینک دیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کی تلاش جاری ہے اور جلد حقائق سامنے لائے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک